Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر جھوٹوں کے شہنشاہ

چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر جھوٹوں کے شہنشاہ

حکومت کی کار کردگی پر مباحث کا چیلنج، محمد علی شبیر کی للکار
حیدرآباد /12 نومبر (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو جھوٹوں کا شہنشاہ قرار دیتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت کی کار کردگی پر ان کے 50 سوالات پر کھلے عام مباحثہ کا چیلنج کیا اور سنہرے تلنگانہ کے خواب کو تاریکی میں تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس بھون میں چیف منسٹر تلنگانہ نے ورنگل کے ضمنی انتخاب کے لئے پارٹی امیدواروں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے سوائے ایک وعدہ کے تمام وعدوں کو پورا کردیا ہے۔ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں جملہ 180 وعدے کئے تھے، جن میں 101 اہم وعدے شامل ہیں۔ مسٹر شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس کے اقتدار کے 500 دن مکمل ہوچکے ہیں، لیکن اب تک 10 فیصد وعدے بھی پورے نہیں ہوئے، اس لئے انھوں نے 50 سوالات پر مشتمل ایک کتابچہ تیار کیا ہے، جس کا صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے رسم اجراء انجام دیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ ان 50 سوالات پر مباحثہ کے لئے چیف منسٹر کو چیلنج کرتے ہیں، خواہ یہ مباحثہ ورنگل، حیدرآباد یا ٹی آر ایس آفس میں منعقد کیا جائے، وہ شرکت کرنے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے 12 فیصد مسلم تحفظات کا وعدہ کیا تھا، جس پر آج تک عمل آوری نہیں ہوئی۔ انجینئرنگ کالجس کی 600 اور میڈیسن کی 280 نشستوں کو گھٹا دیا گیا۔ ریاست میں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا اعزاز حاصل ہونے کے باوجود اس کو نظرانداز کردیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے موقع پر 7 ہزار کروڑ روپئے کا فاضل بجٹ ہونے کے باوجود چیف منسٹر کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں اور سرکاری محکموں کی لاپرواہی کے سبب تلنگانہ پر 500 دنوں میں 70 ہزار کروڑ روپئے قرض کا بوجھ عائد ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ عوامی مسائل پر مباحث کے لئے اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کو اجازت نہیں دی گئی۔ علاوہ ازیں چیف منسٹر عوامی مسائل سننے کے لئے وزراء اور منتخب عوامی نمائندوں کو دستیاب نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شادی مبارک اسکیم میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں ہوئی ہیں، جس کا ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اعتراف کیا ہے۔ علاوہ ازیں دیگر فلاحی اسکیمات بھی راستہ بھٹک گئی ہیں۔ انھوں نے کانگریس امیدوار سروے ستیہ نارائنا کو ورنگل کے لئے ٹی آر ایس کی جانب سے غیر مقامی قرار دینے پر ٹی آر ایس سے استفسار کیا کہ کے سی آر کیا کریم نگر اور محبوب نگر کے لئے مقامی تھے؟ یا کے ٹی آر حلقہ اسمبلی سرسلہ کے لئے مقامی ہیں؟۔

TOPPOPULARRECENT