Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / چیف منسٹر جموں و کشمیر کی مرکزی وزیر داخلہ سے ملاقات

چیف منسٹر جموں و کشمیر کی مرکزی وزیر داخلہ سے ملاقات

NEW DELHI, OCT 18 (UNI):- Chief Minister of Jammu and Kashmir, Mehbooba Mufti calling on the Union Home Minister, Rajnath Singh, in New Delhi on Wednesday. UNI PHOTO-7U

وادی میں تشدد پر اضافہ پر تبادلۂ خیال ، چوٹی کاٹنے کے بعد فوج کی فائرنگ سے چار زخمی ، پاکستانی خلاف ورزی سے 8 شہری زخمی
نئی دہلی ۔ 18 اکتوبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر جموںو کشمیر محبوبہ مفتی نے آج مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کرکے مختلف مسائل بشمول وادی کشمیر میں تشدد کے واقعات میں حالیہ اضافہ پر تبادلۂ خیال کیا۔ 30 منٹ طویل ملاقات میں چیف منسٹر نے مرکزی وزیر داخلہ کو جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال اور ریاست میں امن برقرار رکھنے کیلئے ریاست کی کوششوں کی تفصیلات سے واقف کروایا ۔ راجناتھ سنگھ نے محبوبہ مفتی کو مرکز کی ہرممکن امداد کا تیقن دیا ۔ جموں و کشمیر میں تشدد میں اضافہ میں فوج پر حالیہ حملے ، ایک پی ڈی پی کارکن کا قتل اور بعد ازاں اُس کے مکان پر حملہ اور ایک ٹیچر کا گلا کاٹ دینے کے واقعات شامل تھے۔ مبینہ چوٹی کاٹنے کے واقعات سے بھی ریاست کے بعض علاقوں میں دہشت کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ آج چار افراد اُس وقت زخمی ہوگئے جبکہ فوج نے پہلگام کے علاقہ میں چوٹی کاٹنے کے ایک واقعہ کے بعد عوام کے ہجوم پر فائرنگ کی ۔ ایک اسٹیڈی گروپ تشکیل دیا گیا تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا جائزہ لے جو بین الاقوامی سرحد اور جموں و کشمیر میں حقیقی خط قبضہ کے قریب مقیم ہیں۔ سمجھا جاتا ہیکہ اجلاس کے دوران اس پر بھی تبادلۂ خیال کیاگیا ۔ یہ گروپ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے حال ہی میں قائم کیا گیا ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ نے حال ہی میں کہا تھا کہ پانچ تا چھ دہشت گرد فوج کے ہاتھوں روزآنہ ریاست جموں و کشمیر میں ہلاک کئے جاتے ہیں۔ چیف منسٹر نے وزیر ریلوے پیوش گوئیل سے بھی کل ملاقات کی تھی۔

سرینگر سے موصولہ اطلاع کے بموجب ضلع اننت ناگ کے علاقہ پہلگام کے ایک دیہات کے عوام نے احتجاجی مظاہرہ کیا ، جبکہ مبینہ طورپر چوٹی کاٹنے کے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا تھا ۔ فوج کی ایک گاڑی اس علاقہ سے گذر رہی تھی جسے احتجاجیوں نے روک دیااور اس کے ٹائروں سے ہوا خارج کردینے کی کوشش کی ۔ چونکہ ہجوم پرتشدد ہوگیا تھا اس لئے فوج نے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجہ میں چار افراد زخمی ہوگئے ۔ مزید تفصیلات دستیاب نہیں ہوسکیں۔ جموں سے موصولہ اطلاع کے بموجب آٹھ شہری بشمول ایک لڑکی اُس وقت زخمی ہوگئے جب کہ دیہاتوں کے مضافاتی علاقوں کے عوام اور ہراول چوکیوں کے فوجیوں کے درمیان علاقہ پونچھ اور راجوری میں خط قبضہ کے پاس تصادم ہوگیا۔ پاکستانی فوجیوں نے دراندازی کرتے ہوئے چھوٹے اسلحہ سے فائرنگ کی ۔ خودکار اسلحہ اور مارٹروں سے 7:45 بجے صبح بھیمبیر گلی سیکٹر میں شلباری کی گئی جو ضلع پونچھ میں خط قبضہ کے پاس واقع ہے ۔ فائرنگ اب بھی جاری ہے ۔ عہدیدارو ںکے بموجب ہندوستانی فوج زبردست جوابی کارروائی کررہی ہے اور موثر انداز میں اشتعال انگیزی کا جواب دے رہی ہے ۔ زبردست فائرنگ اور مارٹر شلباری پاکستانی فوج کی جانب سے وقفہ وقفہ سے شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے ہراول علاقوں باگلکوٹ رسونی ، سنڈوٹ ، منجاکوٹ علاقوں پر کی جارہی ہے ۔ پانچ افراد بشمول تین مزدور پونچھ میں تین شہری بشمول ایک دو سالہ لڑکی منجاکوٹ میں زخمی ہوئے ۔ زخمیوں کو دواخانہ میں شریک کردیا گیا ۔ تین گاڑیوں کے برقی آلات پاکستانی شلباری سے تباہ ہوگئے ۔ سال 2017 ء میں پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT