Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر پر ایوان میں اپوزیشن کی آواز کو دبانے کا الزام

چیف منسٹر پر ایوان میں اپوزیشن کی آواز کو دبانے کا الزام

اسپیکر اسمبلی سے شکایت بھی فضول ، قائداپوزیشن جانا ریڈی کا شدید ردعمل
حیدرآباد ۔ 31 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے اسمبلی کی کارروائی پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر سے استفسار کیا کہ اسمبلی میں گھنٹوں بات کرنا کیا کوئی بڑی بات ہے ۔ عوامی مسائل کو پیش کرنے والے اپوزیشن ارکان کو تنقید کا نشانہ بنانا غیر جمہوری عمل ہے ۔ گروپ I نتائج کے مسئلہ پر تحریک التواء نوٹس پر اسمبلی سے بائیکاٹ کرنے والے قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے میڈیا پوائنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایوان اسمبلی میں عوامی مسائل کو موضوع بحث بنانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ اگر اتفاق سے کسی بھی مسئلہ پر حکومت سے سوال کیا جارہا ہے تو چیف منسٹر کے سی آر ، وزراء اور حکمران جماعت کے ارکان اپوزیشن پر تنقیدیں کررہے ہیں ۔ ایوان میں عددی طاقت کا بیجا استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں ۔ عوام کی توقعات کے مطابق خدمات انجام دینے میں ٹی آر ایس حکومت پوری طرح ناکام ہوگئی ہے ۔ اسمبلی میں صرف حکمران جماعت کے ارکان کو اہمیت دی جارہی ہے ۔ اسمبلی کی ٹیلی ویژن ٹیلی کاسٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ اس کی اسپیکر اسمبلی سے شکایت کرنے کے باوجود کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ۔ انہوں نے حکومت سے استفسار کیا کہ کیا اپوزیشن کی کوئی اہمیت نہیں ہے ؟ انہوں نے بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلے پر قائم نہ رہنے کا اصل اپوزیشن کانگریس پر جو الزام عائد کیا جارہا ہے ۔ اس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم جو مسائل پیش کررہے ہیں ۔ اس پر غور ہی نہیں کیا جارہا ہے ۔ اگر اسپیکر کی جانب سے مائیک بھی دیا جارہا ہے تو بات مکمل ہونے سے قبل کٹ کردیا جارہا ہے ۔ ایوان میں ارکان کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا جارہا ہے ۔ تحریک التواء نوٹس کی اہمیت ہے یا نہیں حکومت سے استفسار کیا ۔ بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں ہوا کچھ اور اسمبلی میں کچھ اور ہی پیش کیا جارہا ہے ۔ بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں اتفاق رائے سے قرار داد منظور کرتے ہوئے وقفہ سوالات کے بعد تحریک التواء نوٹس پر غور کرنے کا فیصلہ کرنے کا جو دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ وہ غلط ہے ۔ حکومت کی اس تجویز سے کانگریس نے اتفاق ہی نہیں کیا ہے ۔ تحریک التواء نوٹس کا کوئی رول ہے یا نہیں ۔ عوامی مسائل کو پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ اگر اسپیکر اس کی وضاحت نہیں کرتے تو ہم کس سے توقع کریں ۔۔

TOPPOPULARRECENT