Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ ، کودنڈا رام سے خوفزدہ کیوں ؟

چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ ، کودنڈا رام سے خوفزدہ کیوں ؟

حکمراں پارٹی ٹی آر ایس اور سیاسی حلقوں میں سرگوشیاں ، حکومت کی کارکردگی پر تنقید کے بعد دھمکی آمیز بیانات
حیدرآباد۔/7جون، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ آخر تلنگانہ جے اے سی کے صدرنشین پروفیسر کودنڈا رام سے خوفزدہ کیوں ہیں؟ ۔ سیاسی حلقوں اور خود ٹی آر ایس پارٹی میں ان دنوں یہ سوال تیزی سے گشت کررہا ہے اور مختلف زاویوں سے اس کے نتائج اخذ کئے جارہے ہیں۔ گذشتہ دو برسوں میں پروفیسر کودنڈا رام نے جے اے سی صدرنشین کی حیثیت سے حکومت کی کارکردگی پر راست طور پر تنقید سے گریز کیا تھا۔ حالانکہ وہ حکومت کی کارکردگی سے خوش نہیں تھے۔ تلنگانہ تحریک کی قیادت کرنے والے پروفیسر کودنڈا رام کو حکومت کے دو سال کی تکمیل کے بعد آخر کار کھل کر تبصرہ کرنا پڑا جو چیف منسٹر کو سخت ناگوار گذرا۔ چیف منسٹر نے کودنڈا رام کے خلاف اپنی ساری کابینہ اور پارٹی کو میدان میں اُتاردیا۔ ہر سطح پر کودنڈا رام پر تنقیدوں کی بوچھار کردی گئی اور بعض قائدین اُن کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ میں گفتگو کرنے لگے۔ حیدرآباد سے لے کر اضلاع تک تمام قائدین کو پارٹی کی جانب سے ہدایت جاری کی گئی کہ وہ کودنڈا رام کے خلاف اخبارات اور الکٹرانک میڈیا میں بیانات دیں تاکہ عوام میں ان کے الزامات کا اثر زائل ہوجائے۔ پروفیسر کودنڈا رام نے حکومت کی دو سالہ کارکردگی کو ہر سطح پر مایوس کن قرار دیتے ہوئے چیف منسٹر پر ریمارک کیا تھا کہ اگر وہ وعدوں کی تکمیل نہیں کرسکتے تو پھر کرسی چھوڑ دیں۔ کرسی چھوڑنے کا مشورہ کے سی آر کو اس قدر ناگوار گذرا کہ انہوں نے بالواسطہ طور پر ایک غیرسیاستداں پروفیسر کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے۔ پارٹی حلقوں میں یہ سوال اُٹھ رہا ہے کہ آخر پروفیسر کودنڈا رام سے اس قدر خوف کھانے کی کیا ضرورت ہے۔ یوں تو اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت پر روزانہ تنقیدیں کررہی ہیں لیکن کودنڈا رام کی تنقید سے کیا فرق پڑیگا۔ سیاسی مبصرین کا احساس ہے کہ چیف منسٹر کا کودنڈا رام سے خوفزدہ ہونا فطری اور واجبی ہے کیونکہ کودنڈا رام تلنگانہ تحریک کے دوران پیش آئے کئی واقعات کے نہ صرف چشم دید گواہ ہیں بلکہ ان کے سینہ میں تحریک کے دوران کی تبدیلیوں کے کئی راز دفن ہیں۔ ٹی آر ایس اس بات پر خوفزدہ ہے کہ کودنڈا رام کہیں ان رازوں کا افشاء نہ کردیں۔ پولٹیکل جے اے سی کی تحریک کے دوران چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کئی مواقع پر اپنی غیر حاضری سے جے اے سی کو نقصان پہنچایا تھا۔ کئی اہم احتجاجی پروگراموں میں کے سی آر غیر حاضر رہے۔ سڑک پر پکوان اور ملین مارچ جیسے اہم پروگرام پروفیسر کودنڈا رام کی اختراع تھے۔ کے سی آر نے ملین مارچ کے آغاز پر شرکت نہیں کی جبکہ شام کے وقت ٹینک بنڈ پہنچے جہاں عوام نے ان کے خلاف نعرہ بازی کی اور انہیں اپنی قیامگاہ واپس ہونا پڑا تھا۔ اسی طرح ڈاکٹر کیشوراؤ پر بوتلیں پھینکی گئی تھیں۔ اس طرح تلنگانہ ایجی ٹیشن کے دوران کئی ایسے درپردہ حقائق ہیں جن سے کودنڈا رام واقف ہیں۔ اگر وہ یہ تمام حقائق عوام کے روبرو رکھ دیں تو اس سے یقینی طور پر ٹی آر ایس کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کو کودنڈا رام سے بدظن کرنے اور ان کی باتوں کو بے اثر کرنے وزراء سے لے کر پارٹی کارکنوں تک اُن کے خلاف مہم چھیڑ دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایجی ٹیشن کے طریقہ کار پر کودنڈا رام اور کے سی آر میں کئی مرتبہ اختلاف رائے رہا۔ مرکز کی جانب سے تلنگانہ کی تشکیل کے اعلان سے قبل جب کے سی آر نے ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کرنے کا وعدہ کیا اسوقت بھی کودنڈا رام نے مخالفت کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہی اختلافات حکومت کے قیام کے بعد شدت اختیار کرگئے اور چیف منسٹر بننے کے بعد سے آج تک کے سی آر نے کودنڈا رام کو نہ ہی اپنے آفس مدعو کیا اور نہ انہیں ملاقات کا وقت دیا جبکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کودنڈا رام کی زیر قیادت پُرامن اور جمہوری ایجی ٹیشن کا نتیجہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT