Saturday , November 25 2017
Home / اداریہ / چیف منسٹر کا دورہ دہلی

چیف منسٹر کا دورہ دہلی

وہ جو بھی گذرے ہیں لے کر بہار گلشن سے
لپٹ کے دامنِ رنگیں سے خار آئے ہیں
چیف منسٹر کا دورہ دہلی
چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے حالیہ دورہ دہلی کے دوران نئے سکریٹریٹ کے لیے بیسن پولو گراونڈ کے حصول کے لیے مرکز کو راضی کرانے میں کامیابی حاصل کرلی ۔ چیف منسٹر کی یہ کوشش اس لحاظ سے بھی ضروری تھی کیوں کہ وہ واستو پر یقین رکھتے ہوئے ریاست کی موجودہ سکریٹریٹ عمارت سے کام کاج کرنے سے گریز کررہے تھے ۔ نئے سکریٹریٹ کے لیے وسیع تر اراضی کے حصول کو یقینی بنانا چیف منسٹر کی کوششوں کا حصہ ہے ۔ چیف منسٹر نے دورہ دہلی کے دوران مرکزی وزیر ارون جیٹلی سے ملاقات میں دو اہم باتوں پر توجہ مرکوز کی تھی ۔ جب کہ ان کے سامنے ریاست کے دیگر کئی اہم مسائل بھی تھے ۔ انہیں صرف سکریٹریٹ کی عمارت کو اہمیت دیتے ہوئے دیکھا گیا ۔ سرکاری خزانے پر زائد بوجھ والے اقدامات کے درمیان اگر چیف منسٹر اپنی حکومت کی کارکردگی کو عوامی خدمات سے ہٹا کر دیگر مصروفیات اور اخراجات کی جانب مشغول کردیں گے تو ہوسکتا ہے کہ آنے والا کل ان کے حق میں عوامی ہمدردی سے محروم کردے گا۔ مرکز سے اپنی پسند کی چیزیں حاصل کرنے کی کوشش میں وہ اپنے دیگر فرائض کو فراموش کرتے جارہے ہیں ۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا مسئلہ یوں ہی تاخیر کی نذر کردیا گیا ہے ۔ ریاست میں ترقیاتی کاموں کی ویسے تو طویل فہرست تیار کرلی گئی تھی مگر گذشتہ 3 برسوں میں اس فہرست کو تکمیل کی جانب لے جانے کی کوشش نہیں کی گئی ۔ مرکز نے گڈس اینڈ سرویس ٹیکس (GST) نافذ کر کے ریاست کے بعض ترقیاتی اقدامات پر ضرب لگائی ہے ۔ اس ضرب سے ریاست کو بچانے کی درخواست کے ساتھ چیف منسٹر دہلی میں مختلف وزارتوں سے نمائندگی کررہے ہیں ۔ وزیر فینانس کی حیثیت سے ارون جیٹلی نے ریاستی حکومت کی جانب سے کی گئی درخواستوں پر موافق اور ہمدردانہ غور کرنے کا تیقن دیا ۔ عوامی استعمال کے پراجکٹس پر جی ایس ٹی کو کم کرنے کے لیے چیف منسٹر کی درخواست پر غور کیا جانا ضروری ہے ۔ اگر وزیر فینانس اپنے وعدہ کے مطابق 9 ستمبر کو حیدرآباد میں منعقد ہونے والی جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس میں اس معاملہ پر تبادلہ خیال کر کے فیصلہ کرتے ہیں تو یہ نئی ریاست تلنگانہ کی ترقی کے حق میں مثبت قدم ہوگا ۔ ریاست تلنگانہ کے عوامی فائدہ کی اسکیمات میں مشن بھاگیرتا ، آبپاشی پراجکٹس ، سڑکوں کی تعمیر شامل ہیں ۔ تعمیرات کے کاموں پر اگر جی ایس ٹی کو 18 فیصد نافذ کیا جائے تو اس سے اضافی بوجھ عائد ہوگا ۔ اگرچیکہ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے 18 فیصد جی ایس ٹی کی بجائے 12 فیصد جی ایس ٹی نافذ کرنے کا فیصلہ سنایا ہے اس میں مزید کمی کرتے ہوئے اگر 5 فیصد کی جائے تو بجٹ پر بوجھ کم پڑے گا ۔ بلکہ اس 5 فیصد جی ایس ٹی کو بھی برخاست کردیا جائے تو ریاست تلنگانہ میں ترقیاتی اسکیمات کی رفتار میں کوئی کمی نہیں آئے گی ۔ ریاست تلنگانہ کے ساتھ جی ایس ٹی معاملہ میں ضروری رعایت ہونی چاہئے کیوں کہ اس نئی ریاست کے ابتدائی کئی مسائل ہیں اور عوامی خدمات کی اسکیمات کو پورا کرنے کے لیے ریاستی حکومت کو ایک مدت کے لیے مکمل راحت و آزادی کا ماحول فراہم کرنا ضروری ہے ۔ حیدرآباد میں منعقد ہونے والے جی ایس ٹی کونسل اجلاس میں اس تعلق سے ہمدردانہ غور کرتے ہوئے تعمیراتی شعبہ سے جی ایس ٹی کو برحاست کرنے کا فیصلہ کیا جائے تو یہ ایک اہم قدم ہوگا ۔ ریاستی حکومت کو اپنی کوششوں میں تیزی لاتے ہوئے اجلاس سے قبل جامع ہوم ورک کرنے کی ضرورت ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا مرکز سے رشتہ مضبوط ہوتا جارہا ہے تو اس کے عوض مرکز کو ریاستی حکومت کی ضروریات اور تقاضوں کو پورا کرنے میں توجہ دینی ہوگی ۔ ریاست میں ایسے کئی کام ابھی ادھورے ہیں ان میں ڈبل بیڈروم کی اسکیمات ، غریبوں کے لیے بنائی گئی ہیں ریاست کی ترقی کی راہ میں مرکز کو حائل نہیں ہونا چاہئے ۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ ایک عوامی لیڈر ہیں وہ عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں اور ان میں منصوبہ پسندی کی خوبیاں بھی پائی جاتی ہیں ۔ لیکن مرکز سے تعاون کے بغیر وہ بعض امور انجام دینے سے قاصر ہیں ۔ اس طرح مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کے لیے ان کے جذبہ کی قدر کرتے ہوئے مرکز کو اس معاملہ میں رکاوٹ کا پہلو اختیار نہیں کرنا چاہئے ۔ چیف منسٹر نے ایک سے زائد مرتبہ کہا ہے کہ وہ ریاست کی ترقی اور مسلمانوں کو تحفظات دینے کے معاملہ میں کسی بھی معاملہ میں پیچھے نہیں ہٹیں گے لیکن مرکز کا رویہ اور بعض امور میں اس کی بے رخی سے اندازہ ہوتا ہے کہ چیف منسٹر اپنے مقاصد اور منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے ۔ کئی پراجکٹس معلق ہیں محض مرکز کی عدم توجہ کی وجہ سے پولاورم پراجکٹ کے بارے میں غیر یقینی کیفیت پیدا کردی گئی ہے ۔ اسی طرح ریاست کے دیگر اہم پراجکٹس بھی مرکز کی پالیسیوں کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوجائیں تو مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا ملنا ریاستی حکومت کی موجودہ میعاد میں یقینی نہیں ہے ۔ آئندہ حکومت کے آنے اور سیاسی تبدیلیوں کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے بعد ہی درست تصویر سامنے آئے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT