Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / چیف منسٹر کرن کمار ریڈی مستعفی

چیف منسٹر کرن کمار ریڈی مستعفی

حیدرآباد۔/19فبروری، ( سیاست نیوز) ابھی کھیل ختم نہیں ہوا، آخری گیند ابھی باقی ہونے کا دعویٰ کرنے والے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل منظور ہوتے ہی بولڈ ہوگئے اور وہ آج بطور احتجاج چیف منسٹر کے عہدہ کے ساتھ ساتھ کانگریس اور اسمبلی کی رکنیت سے بھی مستعفی ہوگئے۔ کرن کمار ریڈی نے آج راج بھون پہنچ کر گورنر کو اپنا استعفی

حیدرآباد۔/19فبروری، ( سیاست نیوز) ابھی کھیل ختم نہیں ہوا، آخری گیند ابھی باقی ہونے کا دعویٰ کرنے والے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل منظور ہوتے ہی بولڈ ہوگئے اور وہ آج بطور احتجاج چیف منسٹر کے عہدہ کے ساتھ ساتھ کانگریس اور اسمبلی کی رکنیت سے بھی مستعفی ہوگئے۔ کرن کمار ریڈی نے آج راج بھون پہنچ کر گورنر کو اپنا استعفی پیش کردیا جسے گورنر نے قبول کرلیا۔ انہوں نے سیاسی مفادات میں ریاست کو تقسیم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے نئی پارٹی تشکیل دینے سے متعلق پوچھے گئے سوال کو ٹال دیا۔ کیمپ آفس میں پریس کانفرنس کے دوران مسٹر کرن کمار ریڈی نے کہا کہ تقسیم کی مخالفت میں اگر تلنگانہ کے عوامی جذبات مجروح ہوئے ہوں تو ان سے معذرت خواہی کا اظہار کرتا ہوں۔

پریس کانفرنس کے دوران 8وزراء، 18کانگریس ارکان اسمبلی اور 5ارکان قانون ساز کونسل موجود تھے۔ مسٹر کرن کمار ریڈی نے کہاکہ مرکزی حکومت کے اس فیصلہ سے تلگو عوام کے دل مجروح ہوئے ہیں اور ان کا مستقبل تاریک ہوگیا ہے جس کی وجہ سے وہ بطور احتجاج مستعفی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو تقسیم کرنے سے تلگو عوام کا نقصان ہوگا۔ کسان، طلبہ اور سرکاری ملازمین کو بھی نقصان ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 58سال تک تلگو عوام متحد تھے اور تمام شعبوں میں آندھرا پردیش نے انقلابی ترقی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم سے پانی، برقی، روزگاراور

تعلیمی اداروں کے مسائل پیدا ہوں گے۔
چیف منسٹر کہا کہ ریاست کی تقسیم کے معاملہ میں عجلت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمہوری اقدار کو پامال کیا گیا ہے یہاں تک کہ مرکزی کابینہ میں تلنگانہ کا بل ٹیبل ایٹم کی حیثیت سے لایا گیا۔انہوں نے کہا کہ وزراء نے بل پڑھنے کیلئے دو دن کا وقت طلب کیا لیکن انہیں دو گھنٹے کا بھی وقت نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بل کی منظوری سے قبل کابینہ کو کافی احتیاط سے کام کرنا چاہیئے تھا لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی جانب سے مسترد کردہ بل کو پہلی مرتبہ منظوری دی گئی ہے۔ پارلیمنٹ میں سیما آندھرا کے ارکان پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا اور جس ریاست کو تقسیم کیا جارہا ہے اس کے ارکان پارلیمنٹ کو ایوان سے باہر کرتے ہوئے راست ٹیلی کاسٹ کو منقطع کرتے ہوئے بل منظور کیا گیا۔ انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلہ میں وضاحت کرے۔ مسٹر کرن کمار ریڈی نے کہا کہ اسمبلی میں مسترد کردہ بل کو پارلیمنٹ میں منظور کرنا غیر دستوری ہے، مرکزی حکومت نے بی جے پی سے خفیہ معاہدہ کرتے ہوئے تلگو عوام کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ریاست کی تقسیم کیلئے کانگریس، بی جے پی، تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی سب برابر کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے سیما آندھرا کے مرکزی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ اسپیکر کے پوڈیم کے قریب پہونچنے پر صدمہ کا اظہار کیا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وزیر اعظم کو کروڑہا تلگو عوام کی آنکھوں میں جو آنسو آئے وہ دکھائی نہیں دیئے۔ انہوں نے کہا کہ 50سال کی جدوجہد اور کئی قربانیوں کے بعد تلگو ریاست قائم ہوئی تھی جس کو تقسیم کردیا جارہا ہے جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے مرکزی حکومت سے استفسار کیا کہ کیا لسانی بنیاد پر تشکیل کردہ ریاستوں کو تقسیم کرنے سے کیا ملک ترقی کرسکتا ہے۔ کرن کمار ریڈی نے انہیں چیف منسٹر بنانے پر کانگریس قیادت سے اظہار تشکر کیا اور ریاست کو تقسیم کرنے پر بطور احتجاج چیف منسٹر کے عہدہ کے ساتھ ساتھ اسمبلی اور کانگریس کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1962ء سے ان کے خاندان نے 12میعادوں سے اسمبلی کی نمائندگی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تلنگانہ جذبہ کے خلاف نہیں ہیں۔ ریاست کو متحد رکھنے کیلئے ان کی جانب سے کی گئی جدوجہد سے اگر تلنگانہ عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہوں تو وہ ان سے معذرت خواہاں ہیں۔ تلنگانہ کو پیاکیج دینے کی مخالفت کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان سے پیاکیج کے تعلق سے کسی نے بھی بات نہیں کی ہے۔ تلنگانہ بل کی منظوری کے بعد دیئے جانے والے استعفی سے کیا فائدہ ہوگا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر کرن کمار ریڈی نے کہاکہ کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ وہ بطور احتجاج مستعفی ہورہے ہیں۔ سی ڈبلیو سی کے فیصلے کے بعد استعفی نہ دیئے جانے کے وزراء کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر میں جب استعفی دے دیتا تو چار ماہ قبل ہی علحدہ تلنگانہ ریاست قائم ہوجاتی۔ مستقبل کی حکمت عملی اور نئی پارٹی تشکیل دینے کے سوال کو ٹالتے ہوئے کرن کمار ریڈی نے کہا کہ انہوں نے اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعفی نہیں دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT