Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کو برطرف کرنے کانگریس کا غور

چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کو برطرف کرنے کانگریس کا غور

حیدرآباد 7 فبروری (سیاست نیوز) مرکزی کابینہ میں علیحدہ ریاست تلنگانہ بِل کو منظوری دیئے جانے کے فوری بعد وزیراعظم کی قیامگاہ پر کانگریس کور کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اِس اجلاس میں صدرنشین یو پی اے مسز سونیا گاندھی نے بھی شرکت کی۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب اجلاس میں چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی کے خلاف کارروائی پر غور

حیدرآباد 7 فبروری (سیاست نیوز) مرکزی کابینہ میں علیحدہ ریاست تلنگانہ بِل کو منظوری دیئے جانے کے فوری بعد وزیراعظم کی قیامگاہ پر کانگریس کور کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اِس اجلاس میں صدرنشین یو پی اے مسز سونیا گاندھی نے بھی شرکت کی۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب اجلاس میں چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی کے خلاف کارروائی پر غور کیا گیا اور بتایا جاتا ہے کہ کانگریس نے اُنھیں پارٹی سے معطل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کانگریس کور کمیٹی اجلاس میں علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کو یقینی بنانے کے عمل کا جائزہ لیا گیا اور تشکیل تلنگانہ کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے کانگریس قائدین کی حرکتوں کا سخت نوٹ لئے جانے کی بھی اطلاع ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کور کمیٹی اجلاس میں مسز سونیا گاندھی نے کرن کمار ریڈی کے مخالف تلنگانہ دھرنے پر شدید برہمی کا بھی اظہار کیا۔ اِسی دوران چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی کی جانب سے بھی کسی بھی کارروائی کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آج دن میں چیف منسٹر نے اپنے قریبی رفقاء سے یہ بات کہی تھی کہ کانگریس ہائی کمان کی جانب سے اُن کے خلاف کارروائی سے قبل وہ اپنے عہدہ سے مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وزیراعظم کی قیامگاہ پر منعقد ہوئے کور کمیٹی اجلاس کی بھی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں لیکن یہ ضرور کہا جارہا ہے کہ کانگریس ہائی کمان نے پارٹی کے فیصلہ کے خلاف سرگرمیوں کا مظاہرہ کرنے والے قائدین کی حرکات کا جائزہ لیا ہے اور ساتھ ہی جاریہ پارلیمنٹ کے سیشن میں تشکیل تلنگانہ سے متعلق آندھراپردیش تشکیل جدید بِل 2013 ء کو بہرصورت منظور کروانے کے اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔ چیف منسٹر آندھراپردیش کرن کمار ریڈی کو اُن کے عہدہ سے ہٹائے جانے کی اطلاعات گزشتہ دو دن سے گشت کررہی ہیں لیکن آج شام کابینہ کے فیصلہ کے بعد یہ اطلاعات کو مزید تقویت حاصل ہورہی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ مسٹر کرن کمار بھی ہائی کمان کی جانب سے کارروائی کے امکانات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اُنھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ آندھراپردیش ریاستی اسمبلی کی جانب سے مسترد کردہ بِل پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے کی صورت میں وہ چیف منسٹر کے عہدہ سے مستعفی ہوجائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT