Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / چیف منسٹر کھٹر کی احتجاجی جاٹ قائدین سے بات چیت

چیف منسٹر کھٹر کی احتجاجی جاٹ قائدین سے بات چیت

حفاظتی انتظامات میں شدت ‘ احتجاجیوں سے پولیس کی جھڑپ ‘ 3 ملازمین پولیس اور ڈی ایس پی زخمی ‘247 نیم فوجی کمپنیاں تعینات
نئی دہلی ۔ 19مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر ہریانہ منوہر لعل کھٹر نے آج احتجاجی جاٹ قائدین سے پوٹا مسئلہ پر بات چیت کی جب کہ احتجاجیوں نے نئی دہلی میں پارلیمنٹ تک جلوس نکالنے کا منصوبہ بنایا ہے جہاں پر عہدیداروں نے زبردست حفاظتی انتظامات کئے ہیں ۔ کھٹر سے ملاقات سے قبل کُل ہند جاٹ آکرشن سنگھرش سمیتی کے صدرنشین یشپال ملک نے کہا کہ ان کا احتجاج پُرامن ہوگا اور وہ اپنے آئندہ لائحہ عمل کا مذاکرات کے بعد فیصلہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ بات چیت کے ذریعہ تمام مسائل کی یکسوئی ہوسکتی ہے لیکن ہم آئندہ کے لائحہ عمل کا ملاقات کے نتائج کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمام مسائل پر کوئی سمجھوتہ ہوجائے تو اطلاع دی جائے گی اور احتجاج معطل کردیا جائے گا ۔ ملک کے ساتھ مختلف ضمنی ذاتوں کے 60تا 70نمائندے موجود تھے ۔

اجلاس میں چیف منسٹر کے علاوہ مرکزی کابینی وزیر بریندر سنگھ نے شرکت کی ۔ کل مجوزہ جلوس کے پیش نظر دہلی ‘ ہریانہ ‘ یو پی اور راجستھان میں امتناعی احکام نافذ کردیئے گئے ہیں تاکہ جاٹ احتجاجیوں کو دہلی میں داخلے سے روک دیا جائے ۔ 24,700 نیم فوجی ارکان عملہ امن ‘ میٹرو ریل اور سڑکوں پر آمد  و رفت برقرار رکھنے کیلئے تعینات کئے گئے ہیں ۔ دہلی کے تمام تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ہیں ۔ کُل ہند جاٹ اسوسی ایشن جو احتجاج کی قیادت کررہی ہے تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں جاٹوں کیلئے تحفظات کا مطالبہ کررہی ہے ۔ نئی دہلی میں پارلیمنٹ تک جلوس نکالنے اور پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے کے علاوہ دھرنے منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ اپنے مطالبات پر زور دینے کیلئے دہلی کی تمام سڑکوں کی ناکہ بندی کردی گئی ہے ۔ میٹرو ٹرین شہر کی سرحدات کے باہر سفر نہیں کریں گی ۔ 11:30بجے شب وسطی دہلی کے 12اسٹیشنوں پر انہیں تاحکم ثانی روک دیا جائے گا ۔

دہلی پولیس کی ہدایت کے بموجب فوج گڑگاؤں اور نوئیڈا کے علاوہ فریدآباد اسٹیشنوں پر تمام خدمات کو دستیاب بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔ 8بجے شب سے کئی اہم مقامات بند کردیئے جائیں گے ۔ مرکزی وزارت نے احتجاجیوں کو مشورہ دیا ہے کہ انہیں گرفتار کرلیا جائے گا یا پھر حراست میں لے لیا جائے گا اگر وہ دہلی میں داخل ہونے کی کوشش کریں ۔ مرکز نے تحریک ختم کردینے اور احتجاجیوں کو شاہراہوں کی ناکہ بندی ختم کردینے کی خواہش کی ہے ۔ انٹرنیٹ خدمات ہریانہ کے کئی حساس اضلاع میں بند کردی گئی ہیں ۔ کھٹر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ حکومت تمام مسائل کی یکسوئی کی پابند ہے ۔ ہریانہ کی وزارتی کمیٹی نے 16مارچ کو پانی پت میں احتجاجیوں سے بات چیت کی تھی ۔ فتح آباد سے موصولہ اطلاع کے بموجب ایک ڈی ایس پی کے بشمول چار ملازمین پولیس جاٹ احتجاجیوں سے جھڑپوں کے دوران زخمی ہوگئے ۔

TOPPOPULARRECENT