Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر کیمپ آفس پر سیما آندھرا قائدین کا کل اجلاس

چیف منسٹر کیمپ آفس پر سیما آندھرا قائدین کا کل اجلاس

حیدرآباد /14 فروری ( پی ٹی آئی ) آندھراپردیش کے علاقوں ساحلی آندھرا اور رائلسیما سے تعلق رکھنے والے کئی مرکزی وزراء ، ارکان پارلیمنٹ ، ریاستی وزراء اور ارکان اسمبلی 16 فروری کو چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی سے ان کے کیمپ آفس پر ملاقات کریں گے اور اس موقع پر ریاست کی مجوزہ تقسیم کے خلاف اجتماعی استعفوں کے بشمول مستقبل کے لائحہ عمل پر قطعی

حیدرآباد /14 فروری ( پی ٹی آئی ) آندھراپردیش کے علاقوں ساحلی آندھرا اور رائلسیما سے تعلق رکھنے والے کئی مرکزی وزراء ، ارکان پارلیمنٹ ، ریاستی وزراء اور ارکان اسمبلی 16 فروری کو چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی سے ان کے کیمپ آفس پر ملاقات کریں گے اور اس موقع پر ریاست کی مجوزہ تقسیم کے خلاف اجتماعی استعفوں کے بشمول مستقبل کے لائحہ عمل پر قطعی فیصلہ کریں گے ۔ ریاستی وزراء ٹی جی وینکٹیش ، ایرا سوپرتاپ ریڈی ، کاسو وینکٹ کرشنا ریڈی ، پی ستیہ نارائنا ، ایس شیلجہ ناتھ ، رکن پارلیمنٹ رایا پاٹی سامبا سیوا راؤ اور چند ارکان اسمبلی نے آج یہاں چیف منسٹر سے الگ الگ ملاقات کی اور تازرہ ترین تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کیا ۔ مسٹر کرن کمار ریڈی سے ان کے کیمپ آفس پر آج دوپہر ملاقات کے بعد ٹی جی وینکٹیش نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ہم نے چیف منسٹر سے ان کے کیمپ آفس پر 16 فروری کو ملاقات کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس موقع پر ہمارے آئندہ لائحہ عمل کو قطعیت دی جائے گی ۔ اجتماعی استعفی بھی ہمارے زیر غور کئی امکانات میں شامل ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیف منسٹر کرن کمار ریڈی اور سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے کانگریس قائدین نے 18 یا 19 فروری کو پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل کی پیشکشی کے موقع پر نئی دہلی میں مزید ایک مرحلہ کا احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

ذرائع نے کہا ہے کہ چیف منسٹر کے علاوہ سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے وزراء اور ارکان مقننہ کی اکثریت اجتماعی استعفی پیش کرتے ہوئے ریاست کی تقسیم کے خلاف کانگریس ہائی کمان پر دباؤ ڈالیں گے ۔ چند مرکزی وزراء ، ارکان پارلیمنٹ اور بعض ریاستی وزراء نے خیال ظاہر کیا ہے کہ چیف منسٹر اپنے استعفی کی پیشکشی کیلئے پارلیملانی سرمائی سیشن کے اختتام تک انتظار کرسکتے ہیں ، اور کہا جاتا ہے کہ مسٹر کرن کمار ریڈی نے 17 فروری کو ہی اپنا استعفی پیش کردینے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ لیکن کرن نے کانگریس چھوڑتے ہوئے نئی سیاسی جماعت کے قیام کیلئے تاحال اپنا ذہن نہیں بنایا ہے ۔ اس دوران کرن اور ان کے حامی ریاست کی تقسیم پر بی جے پی کے قومی قائدین کے بیانات پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ وہ اس بات پر توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں کہ بی جے پی قائدین کابینہ میں اب آندھراپردیش تنظیم جدید بل کی تائید نہیں کریں گے ۔ بالخصوص اس لئے بھی کہ ایل کے اڈوانی جیسے سینئیر بی جے پی قائدین چاہتے ہیں کہ ریاست کی تقسیم پر جاری ہنگامہ آرائی کے درمیان علی الحساب بجٹ کے سواء کوئی دوسرا بل پیش نہیں کیا جائے ۔ چند وزراء نے کہا ہے کہ بی جے پی ہی اب ہماری آخری امید بن گئی ہے ۔ اُس کے کئی سینئیر قائدین اس بل کو کانگریس کی طرف سے جس انداز میں آگے بڑھا یا جارہا ہے اُس کی سختی سے مخالفت کر رہے ہیں ۔ ہمیں توقع ہے کہ وہ ( بی جے پی ) اس بل کی موجودہ شکل کی تائید نہیں کرے گی ۔

TOPPOPULARRECENT