Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر کی جانب سے دعوت افطار کی تاریخ میں تبدیلی کا امکان

چیف منسٹر کی جانب سے دعوت افطار کی تاریخ میں تبدیلی کا امکان

حیدرآباد۔/4جولائی، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے دی جانے والی دعوت افطار کی تاریخ میں تبدیلی کا امکان ہے۔ حکومت نے 8جولائی کو نظام کالج گراؤنڈ پر دعوت افطار کا فیصلہ کیا تھا تاہم یوم شہادت حضرت علی ؓ کے ضمن میں تعزیتی جلوس اور دیگر مذہبی پروگراموں کے پیش نظر حکومت تاریخ میں تبدیلی پر غور کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے

حیدرآباد۔/4جولائی، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے دی جانے والی دعوت افطار کی تاریخ میں تبدیلی کا امکان ہے۔ حکومت نے 8جولائی کو نظام کالج گراؤنڈ پر دعوت افطار کا فیصلہ کیا تھا تاہم یوم شہادت حضرت علی ؓ کے ضمن میں تعزیتی جلوس اور دیگر مذہبی پروگراموں کے پیش نظر حکومت تاریخ میں تبدیلی پر غور کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف علماء اور مذہبی تنظیموں نے اس سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کی کہ 19اور 20 رمضان المبارک کو شہادت حضرت علیؓ کے ضمن میں مختلف مذہبی پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔ حکومت نے اس نمائندگی پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ مشاورت کی اور متبادل تاریخ کے تعین کا مشورہ دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو بھی اس نمائندگی سے واقف کرایا گیا اور انہوں نے بھی تاریخ میں تبدیلی سے اتفاق کیا ہے تاہم نئی تاریخ کا تعین اتوار کے دن کیا جائے گا۔ اگر حکومت تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلے تو دعوت افطار 11جولائی یا پھر اس کے بعد کسی بھی دن ہوسکتی ہے چونکہ 10جولائی کو گورنر ای ایس ایل نرسمہن کی دعوت افطار ہے لہذا چیف منسٹر کی دعوت افطار 11جولائی یا پھر اس کے بعد ہی طئے کی جائے گی۔ اسی دوران افطار کے انتظامات کیلئے تشکیل شدہ اعلیٰ عہدیداروں کی کمیٹی کا آج اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خاں نے کی۔ مختلف محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں بشمول آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں نے اجلاس میں شرکت کی جس میں گریٹر حیدرآباد کے حدود کی 100مساجد میں افطار اور طعام کے انتظامات اور غریبوں میں کپڑوں کی تقسیم کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ گریٹرحیدرآباد حدود کے 24اسمبلی حلقوں میں ہر اسمبلی حلقہ کی 4 مساجد کا انتخاب کیا جارہا ہے اور متعلقہ رکن اسمبلی سے ایسی مساجد کے نام لئے گئے جو غریب آبادیوں میں واقع ہیں۔ افطار اور طعام کے سلسلہ میں ہر مسجد میں تقریباً ایک ہزار افراد کیلئے انتظامات کئے جائیں گے اور بتایا جاتا ہے کہ مسجد کمیٹی کو انتظامات کیلئے 2لاکھ روپئے حوالہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دعوت افطار سے قبل ایک لاکھ اور انتظامات کے بعد ایک لاکھ روپئے ادا کئے جائیں گے۔ افطار میں مختلف میوے جات جبکہ کھانے میں بریانی، سالن اور میٹھا طئے کیا گیا ہے۔ انتظامات کو بہتر طور پر انجام دینے کیلئے منتخب کی گئی مساجد کی کمیٹیوں کے ذمہ داروں کا اتوار کو حج ہاوز میں اجلاس طلب کیا گیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ کمیٹی نے غریبوں کو کپڑوں کی تقسیم کے سلسلہ میں منتخبہ مساجد کو کپڑوں کے کٹس روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہر مسجد کو 100افراد کے کٹس روانہ کئے جائیں گے۔ 500روپئے پر مشتمل اس کٹ میں کرتا پاجامہ کا کپڑا، ایک ٹوپی اور دو ساڑیاں رہیں گی۔ مساجد کمیٹیوں کے ذریعہ انہیں تقسیم کیا جائے گا۔ کمیٹی نے کپڑوں اور ساڑیوں کے حصول کے لئے ٹنڈرس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اندرون تین یوم ٹنڈرس کو قطعیت دے دی جائے گی۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی صدارت میں ٹنڈر کمیٹی تشکیل دی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ کامیاب ٹنڈر گذار ٹنڈر کی منظوری کے بعد دو دن میں کپڑوں اور ساڑیوں کے کٹس تیار کرتے ہوئے حوالے کردیگا۔ شہر کی مساجد کے علاوہ اضلاع کی مساجد کو یہ کپڑے روانہ کئے جائیںگے جو ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کی نگرانی میں مساجد کمیٹیوں کے اشتراک سے تقسیم کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT