Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر کی دعوت افطار پرمسلم تحفظات کا خوف طاری رہا

چیف منسٹر کی دعوت افطار پرمسلم تحفظات کا خوف طاری رہا

امکانی احتجاج کی اطلاع پرسخت سیکوریٹی اور مکمل ویڈیو گرافی،اہم شخصیتوںکی عدم شرکت سے چیف منسٹر مایوس
چیف منسٹر کیلئے دیسی مرغ اور دوسروں کیلئے برائیلر چکن

حیدرآباد۔/10جون، ( سیاست نیوز) مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی میں ناکامی کا احساس چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کیلئے اُلجھن کا باعث بن چکا ہے۔ چیف منسٹر کی 8جون کی دعوت افطار پر مسلم تحفظات کا خوف طاری رہا جس کے تحت پولیس کے ذریعہ نہ صرف سخت ترین حفاظتی انتظامات کئے گئے بلکہ دعوت افطار میں کسی امکانی احتجاج سے نمٹنے کیلئے پوری تیاریاں کرلی گئی تھیں۔ چیف منسٹر کی آمد سے عین قبل حکام نے دعوت افطار کی مکمل ویڈیو گرافی کرنے کا فیصلہ کیا اور کئی ویڈیو کیمرے لال بہادر اسٹیڈیم میں مدعوئین کے ہر انکلوژر میں نصب کئے گئے تاکہ ہر شخص پر نظر رکھی جاسکے اور کوئی بھی ویڈیو کووریج سے باہر نہ رہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر آفس کو انٹلیجنس کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ دعوت افطار میں بعض گوشوں کی جانب سے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر آواز اٹھائی جاسکتی ہے۔ ایسی صورت میں چیف منسٹر کیلئے صورتحال نازک ہوجائیگی لہذا کسی بھی احتجاج کو روکنے کیلئے ہر انکلوژر میں بڑی تعداد میں سادہ لباس پولیس کو تعینات کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کی تقریر کے دوران کسی بھی شخص کی جانب سے مسلم تحفظات کے مسئلہ کو اٹھانے کے اندیشہ کے تحت تمام تر احتیاطی اقدامات کئے گئے تھے۔ چیف منسٹر کو اسوقت راحت ملی جب ان کی تقریر کسی احتجاج یا سوال کے بغیر ختم ہوگئی۔ چیف منسٹر کی تقریر کیلئے 10تا 15 منٹ مختص کئے گئے تھے لیکن پروگرام ایسا تبدیل کیا گیا کہ قرأت کلام پاک سے لیکر چیف منسٹر کی تقریر اور دعا تک ساری کارروائی 15 منٹ میں مکمل ہوجائے۔ چیف منسٹر نے بمشکل 5 منٹ سے کچھ زیادہ وقفہ تک مخاطب کیا اور ان کی تقریر میں کوئی تسلسل نہیں تھا۔ عام طور پر کے سی آر دعوت افطار میں شیروانی زیب تن کرتے ہیں اور تقریر کے نکات نوٹ کرتے ہوئے اس کے مطابق مخاطب ہوتے رہے لیکن اس مرتبہ پہلے سے تیاری کے بغیر چیف منسٹر نے مخاطب کیا اور پہلے سے طئے شدہ پروگرام کے مطابق تقریر میں 12 فیصد تحفظات کا کہیں بھی ذکر شامل نہیں تھا۔ چیف منسٹرکی آمد سے افطار کے وقت تک تمام کیمرے مدعوئین کو کوور کررہے تھے۔ کسی بھی امکانی احتجاج کے خوف نے ساری کارروائی جلد بازی اور افراتفری میں مکمل کرنے پر مجبور کردیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کی تقریر کو بھی مختصر کردیا گیا۔ ان سے قبل قرأت کلام پاک کرنے والے قاری کو روک دیا گیا اس طرح مجموعی طور پر منتظمین اور چیف منسٹر کا دفتر اندیشہ کا شکار تھا کہ کوئی نہ کوئی شخص تحفظات کے بارے میں چیف منسٹر سے سوال نہ کردے۔ دعوت افطار میں اہم مذہبی، سماجی، تعلیمی اور حیدرآباد کی نمائندہ معزز شخصیتوں کی غیر حاضری محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں میں کل سے موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ رسمی طور پر دعوت افطار مکمل ہوگئی لیکن بتایا جاتا ہے کہ اہم شخصیتوں کی عدم شرکت سے چیف منسٹر مایوس ہوگئے۔ گزشتہ چار برسوں میں یہ پہلا موقع تھا جبکہ چیف منسٹر کی دعوت افطار کا حیدرآباد کی نمائندہ شخصیتوں نے بائیکاٹ کردیا۔ چیف منسٹر کے شہ نشین اور وی آئی پی انکلوژر کے درمیان کافی فاصلہ رکھا گیا تھا جیسا عام طور پر جلسوں کے موقع پر رکھا جاتا ہے۔ حیدرآباد کی بعض مذہبی جماعتوں کے ذمہ داروں کو پولیس کی جانب سے اہانت آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں وی آئی پی انکلوژر کی پہلی صف کی بجائے تیسری اور چوتھی صف میں بیٹھنے کیلئے مجبور کیا گیا۔ ابتدائی دو صفوں کو سادہ لباس میں پولیس ملازمین سے پُر رکھا گیا تاکہ علماء و مشائخین کی آمد پر انہیں بٹھایا جاسکے لیکن افطار کے وقت تک یہ نشستیں پولیس ملازمین کے قبضہ میں ہی رہیں اور منتظمین کو مایوسی ہوئی۔ بعض مذہبی شخصیتوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ جس انداز میں ان کے ساتھ سلوک کیا گیا ہے وہ آئندہ شرکت نہیں کریں گے۔ اسی دوران دعوت افطار کے کھانے کے مینو میں بھی چیف منسٹر کیلئے خصوصی ڈش تیار کی گئی جس سے دیگر مدعوئین محروم رہے۔ ہر سرکاری دعوت میں جہاں کہیں چیف منسٹر کھانا تناول کرتے ہیں اُن کیلئے دیسی مرغ کا کھٹا سالن تیار کیا جاتا ہے جبکہ دیگر مہمانوں کی ضیافت برائیلر چکن سے کی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے لئے خصوصی تیار کردہ یہ سالن اطراف کے چند مدعوئین تک سربراہ کیا گیا اور بعد میں یہ انتظامات میں مصروف عہدیداروں کے حصہ میں آیا۔دیگر مدعوئین کی تواضع برائیلر چکن سے کی گئی۔ گزشتہ 4 برسوں سے دعوت افطار میں چیف منسٹر کے لئے دیسی مرغ کے سالن کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ دعوت افطار کے مینو میں لقمی، کباب، حلیم، مچھلی، دَم کا چکن ( برائیلر)، دَم کا مٹن، مٹن بریانی، دہی، مرچ کا سالن اور دو میٹھے شامل تھے۔ وی آئی پیز اور دیگر انکلوژرس میں کھانے کے موقع پر بد انتظامی کے سبب اتفراتفری دیکھی گئی۔ کئی اہم عہدیدار اور مذہبی قائدین نشستوں کیلئے دوڑ دھوپ کرتے ہوئے دیکھے گئے۔

TOPPOPULARRECENT