Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر کی قرارداد پر کانگریس حکومت عملاً منقسم

چیف منسٹر کی قرارداد پر کانگریس حکومت عملاً منقسم

حیدرآباد۔27جنوری ( پی ٹی آئی ) آندھراپردیش کی تقسیم سے متعلق بل کو واپس بھیجنے کیلئے چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے نتیجہ میں ریاستی کانگریس حکومت علاقائی خطوط پر آج عملاً منقسم ہوگئی ۔ علاقہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے وزراء نے مسٹر کرن کمار ریڈی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اورکہاکہ اب وہ انہیں قائد ا

حیدرآباد۔27جنوری ( پی ٹی آئی ) آندھراپردیش کی تقسیم سے متعلق بل کو واپس بھیجنے کیلئے چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے نتیجہ میں ریاستی کانگریس حکومت علاقائی خطوط پر آج عملاً منقسم ہوگئی ۔ علاقہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے وزراء نے مسٹر کرن کمار ریڈی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اورکہاکہ اب وہ انہیں قائد ایوان تسلیم نہیں کرتے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر سی دامودھر راج نرسمہا نے کرن کے استعفی کے مطالبہ کے تحت علم بغاوت بلند کرنے والے تلنگانہ وزراء کی قیادت کی ۔ چند دوسرے وزراء نے خود اسمبلی میں بھی چیف منسٹر کے اس اقدام کی سخت مخالفت کی ۔

ڈپٹی چیف منسٹر نے چیف منسٹر سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ’’ ہم کرن کو قائد ایوان تسلیم نہیں کرتے ‘ انہوں نے تلنگانہ وزراء کی توہین کی ہے ‘ انہیں فی الفور مستعفی ہوجانا چاہیئے ‘‘ ۔ مسٹر نرسمہا نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر نے اس ضمن میں وزراء سے کوئی مشاورت نہیں کی تھی ۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی پونالہ لکشمیا گورنر کے نام اپنے مکتوب میں چیف منسٹر کے اس اقدام پر سخت اعتراض کیا ہے لیکن ان تمام واقعات کے باوجود چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی کسی بھی پرواہ کئے بغیر سیما آندھرا وزراء کے ساتھ اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہے ‘ انہوں نے ایک اجلاس بھی طلب کیا اور اسمبلی میں تلنگانہ بل کو شکست دینے اپنے مقصد کے حصول کیلئے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ۔ چیف منسٹر اور ان کے حامی نے سیما آندھرا کے وزراء اور اسمبلی نے بل واپس کرنے کیلئے مزید مہلت طلب کرنے کا فیصلہ بھی کیا اور یہ وجہ بتائی کہ علاقہ تلنگانہ کے وزراء اور ارکان اسمبلی نے ایوان کی کارروائی میں خلل اندازی کی جس کے نتیجہ میں غور و بحث مکمل نہیں ہوسکی ہے ۔ صدر جمہوریہ نے قبل ازیں اس بل کی واپسی کیلئے 23جنوری تک وقت دیا تھا جس میں بعد ازاں 30جنوری تک توسیع دی گئی تھی ۔

چیف منسٹر کے تازہ ترین اقدام کے سبب اسمبلی میں بھی زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی ۔
زبردست شوروغل کے درمیان اسپیکر این منوہر کو کسی کام کے بغیر دن بھر کیلئے اجلاس ملتوی کرنے پرمجبور ہونا پڑا۔ تلنگانہ وزراء اور ارکان اسمبلی نے چیف منسٹر کی قرارداد سے دستبردار ی کا مطالبہ کیا جب کہ سیما آندھرا کے وزراء اور ارکان اسمبلی نے اس قرار داد کی منظوری پر زور دیا ۔

TOPPOPULARRECENT