Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / چیف منسٹر کے انتخاب میں آر ایس ایس دخل اندازی نہیں کرتی

چیف منسٹر کے انتخاب میں آر ایس ایس دخل اندازی نہیں کرتی

بحیثیت چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کا انتخاب ارکان اسمبلی کا فیصلہ ۔ اپوزیشن کی تنقیدیں غیر ضروری ۔ مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو کا بیان
نئی دہلی 20 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) آدتیہ ناتھ کے چیف منسٹر اترپردیش کی حیثیت سے انتخاب میں آر ایس ایس نے کوئی مداخلت نہیں کی مرکزی وزیر اور ریاستی مقننہ پارٹی لیڈر کے انتخاب کیلئے بی جے پی کے مرکزی مبصر وینکیا نائیڈو نے یہ بات کہی ۔ بی جے پی کی جانب سے انتہائی کٹرپسند یوگی آدتیہ ناتھ کو چیف منسٹر یو پی بنائے جانے پر تنقیدوں کے دوران نائیڈو نے کہا کہ یہ ارکان اسمبلی تھے جنہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ریاست میں پارٹی کی قیادت کی ذمہ داری کس کو سونپی جانی چاہئے ۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے کہا کہ وہ شکست میں باعزت طریقہ اختیار کریں اور عوامی رائے کو قبول کرتے ہوئے نئے چیف منسٹر کو ایک واجبی موقع دیں۔ نائیڈو نے کہا کہ یہ ارکان اسمبلی ہوتے ہیں جو پارلیمانی پارٹی بورڈ کے تحت نئے لیڈر کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ بی جے پی کا مروجہ طریقہ ہے ۔ آر ایس ایس کبھی بھی اس میں مداخلت نہیں کرتی اور نہ ناموں کی تجویز پیش کرتے ہے ۔ مرکزی وزیر نے یہ بھی واضح کیا کہ منتخبہ ارکان اسمبلی کے ساتھ بات چیت کے بعد انہوں نے ان کے خیالات سے بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کو واقف کروادیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے ارکان اسمبلی کا اجلاس منعقد کیا ۔ اس اجلاس میں یوگی آدتیہ ناتھ کے نام کی تجویز سریش کھنہ نے پیش کی اور نو دوسرے ارکان نے اس کی حمایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ تمام ارکان اسمبلی اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس نام سے اتفاق کیا ۔ ایسے میں یہ فیصلہ اترپردیش کے ارکان اسمبلی کا ہے جسے مرکزی کمیٹی نے منظوری دیدی ۔ پارٹی نے یہ وضاحت ایسے وقت میں کی ہے جب اپوزیشن جماعتوں جیسے بی ایس پی نے الزام عائد کیا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کا انتخاب اس لئے کیا گیا کیونکہ پارٹی 2019 کے انتخابات میں ترقی کے نعرہ پر نہیں بلکہ سماج میں تفریق پیدا کرتے ہوئے انتخابات میں مقابلہ کرنا چاہتی ہے ۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کل کہا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ پارٹی نے آر ایس ایس کے ایک پرچارک کو چیف منسٹر اترپردیش نامزد کیا ہے ۔ آدتیہ ناتھ نے چیف منسٹر کی حیثیت سے کل حلف لے لیا تھا ۔ سابق صدر بی جے پی مسٹر نائیڈو نے کہا کہ چیف منسٹر نے پہلے ہی اعلان کردیا ہے کہ وہ کسی امتیاز کے بغیر سماج کے تمام طبقات کی بہتری کیلئے کام کرینگے ۔ اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ جماعتیں بی جے پی کو ملی زبردست عوامی تائید کو ہضم نہیں کر پا رہی ہیں۔ وہ ان جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ شکست میں باعزت طریقہ اختیار کریں اور عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے نئی حکومت کی کارکردگی دیکھنے کیلئے انتظار کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بارہا کہتے ہیں کہ اگر اترپردیش ترقی کرتا ہے تو ہندوستان ترقی کریگا اور ساری توجہ سب کا ساتھ سب کا وکاس پر دی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آدتیہ ناتھ ‘ وزیر اعظم کے بیان کے جذبہ کو سمجھتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگ اس کو ذات پات سے مربوط کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سیاسی مخالفین سمیت کسی کیلئے بھی یہ درست نہیں ہے کہ وہ نئے چیف منسٹر کو موقع دئے بغیر اس طرح کی رائے ظاہر کریں۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ آدتیہ ناتھ اپنے ناقدین کو غلط ثابت کردینگے مسٹر نائیڈو نے کہا کہ انتخابی نتائج اس بات کا بہتر اشارہ ہیں کہ سیاست اب سب کو ساتھ لے کر چل رہی ہے ۔ انتخابی نتائج سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ذات پات کی اور مذہب پر مبنی سیاست ماضی کا حصہ بن گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT