Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر کے رشتہ دار کو دھمکی، نعیم کو مہنگی پڑی

چیف منسٹر کے رشتہ دار کو دھمکی، نعیم کو مہنگی پڑی

رکن پارلیمنٹ کو اراضی معاملہ سے دستبردار ہونے کی وارننگ کے بعد چیف منسٹر کے کان کھڑے ہوگئے

حیدرآباد 10 اگسٹ (سیاست نیوز) خطرناک گینگسٹر محمد نعیم الدین کی اچانک انکاؤنٹر میں ہلاکت نے کئی حلقوں میں تجسس پایا جاتا ہے۔ سینئر پولیس عہدیداروں اور برسر اقتدار سیاستدانوں سے قریبی تعلقات رکھنے والے نعیم کو انکاؤنٹر میں ہلاک کرنے کی وجوہات کو جاننے کے لئے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ باوثوق ذرائع کے بموجب نعیم نے ایسا مقام حاصل کرلیا تھا جس سے وہ بڑی آسانی سے پولیس اور سیاسی قائدین سے اندرون چند منٹ رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہوتا تھا۔ حالیہ دنوں نعیم نے ایسی حرکت کی تھی جس سے چیف منسٹر کی توجہ اِس پر مرکوز ہوچکی تھی۔ ریاست کے ایک وزیر سے تعلق رکھنے والے کنٹراکٹر کو جبری وصولی کے لئے دھمکی آمیز فون کالس کے علاوہ ایک رکن پارلیمنٹ کی جانب سے اراضی تنازعہ میں مداخلت کرنے پر اُنھیں معاملت سے دستبردار ہوجانے کی دھمکی دی تھی۔ دونوں واقعات کو چیف منسٹر کی راست نگرانی میں لائے جانے کی اطلاع ہے جس پر برہم چیف منسٹر نے پولیس اعلیٰ عہدیداروں کو نعیم کا پتہ لگانے اور اُس کی غیر قانونی سرگرمیوں کو فوری روکنے کی ہدایت جاری کی تھی جس کے بعد انٹلی جنس عملہ اُس کی تلاش میں شدت پیدا کردی تھی۔ برسر اقتدار رکن اسمبلی، رکن پارلیمنٹ اور دیگر سیاسی قائدین کو راست طور پر دھمکانے کا حوصلہ رکھنے والے نعیم نے پولیس کے چنگل سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے الکاپوری کالونی میں اپنی پناہ گاہ قائم کرتے ہوئے کروڑہا روپئے نقد رقم ، بے شمار جائیدادوں کے دستاویزات، اسلحہ جمع کیا تھا۔
نعیم نے کئی اہم کارروائیوں میں پولیس کی مدد کی تھی
حیدرآباد 10 اگسٹ (سیاست نیوز) نعیم الدین اور پولیس کی ساز باز کا اُس وقت انکشاف ہوا جب انسداد نکسلائیٹ فورس اسپیشل انٹلی جنس برانچ (ایس آئی بی) کے سابق سربراہ و ریٹائرڈ آئی پی ایس آفیسر سری رام تیواری نے نعیم کو پیشہ ورانہ طور پر استعمال کرنے کی بات قبول کی۔ سری رام تیواری نے ذرائع ابلاغ کو دیئے گئے بیان میں یہ بتایا کہ وہ جب متحدہ آندھراپردیش کے ایس آئی بی سربراہ تھے، نعیم سے کئی مرتبہ ملاقات کرتے ہوئے خطرناک مفرور نکسلائٹس سے متعلق تفصیلات حاصل کی تھیں جنھیں گرے ہاؤنڈ آپریشنس میں استعمال کیا گیا تھا۔ سال 1996 ء سے 2000 ء تک ایس آئی بی سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے مسٹر سری رام تیواری نے بتایا کہ آئی پی ایس عہدیدار کے ایس ویاس کے قتل کے بعد اُس نے خودسپردگی اختیار کی تھی جس کے بعد اُس نے کئی اہم آپریشنس میں اُن کی مدد کی تھی۔ نعیم اور پولیس کے تعلقات مجموعی طور پر پیشہ وارانہ تھے اور کسی پولیس عہدیدار نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال نہیں کیا۔

TOPPOPULARRECENT