Saturday , December 15 2018

چیف منسٹر کے سروے میں حلیف مقامی جماعت کو صرف 5 نشستیں

عوامی ناراضگی کے سبب دو نشستوں کی کمی، کے سی آر خود بھی سروے پر حیرت زدہ
حکومت طاقتور۔ حلیف کمزور

حیدرآباد ۔ 10 ۔ جولائی (سیاست نیوز) جاریہ سال کے اواخر میں وسط مدتی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ مختلف ایجنسیوں کے ذریعہ سروے کا اہتمام کرتے ہوئے پارٹی کے موقف کا جائزہ لے رہے ہیں۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران کے سی آر نے وقفہ وقفہ سے تین علحدہ ایجنسیوں کے ذریعہ سروے کا اہتمام کیا اور تازہ ترین سروے حکومت کی حلیف جماعت کیلئے چونکا دینے والا ثابت ہوا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے تازہ ترین سروے رپورٹ سے اپنے قریبی رفقاء کو واقف کرایا جس میں ٹی آر ایس کی امکانی نشستوں کی تعداد 100 سے بڑھ کر 103 دکھائی گئی ہے جبکہ حکومت کی حلیف مقامی جماعت مجلس کو 5 نشستوں پر کامیابی کی پیش قیاسی کی گئی جو موجودہ 7 نشستوں میں 2 کی کمی ہے۔ حکومت کے ایک سروے میں چند ماہ قبل حکومت کی حلیف جماعت کو 8 نشستوں کی پیش قیاسی کی گئی تھی جو موجودہ نشستوں میں ایک کا اضافہ تھا لیکن تازہ ترین سروے میں نشستوں کی تعداد کو گھٹتا دیکھ کر خود چیف منسٹر بھی حیرت میں پڑگئے ۔ ذرائع کے مطابق کے سی آر نے پارٹی رفقاء کو سروے کی تفصیلات سے واقف کرایا جس میں مختلف زاویوں سے نتائج کی پیش قیاسی کی گئی ہے ۔ زیادہ تر سروے ٹی آر ایس کو 90 تا 100 نشستوں پر کامیابی کی پیش قیاسی کر رہے ہیں لیکن تازہ ترین سروے میں حکومت کی جانب سے زرعی شعبہ کے لئے شروع کردہ اسکیمات کی بنیاد پر تعداد کو 103 دکھایا گیا ہے۔ 119 رکنی اسمبلی میں کانگریس پارٹی کو سنگل ڈجٹ میں نشستیں حاصل ہوں گی ۔ 103 میں حلیف جماعت کے 5 ارکان کو شامل کرلیا جائے تو صرف 11 نشستیں باقی رہ جائیں گی ۔ چیف منسٹر نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ 6 ماہ قبل حلیف جماعت کو ایک نشست کے اضافہ کا امکان ظاہر کیا گیا تھا لیکن تازہ ترین سروے میں پرانے شہر کے کئی علاقوں میں مقامی جماعت کی کارکردگی سے عوام کے غیر مطمئن ہونے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔ سروے ایجنسی نے پرانے شہر میں ترقیاتی کاموں اور مقامی جماعت کے ارکان اسمبلی کی کارکردگی کے بارے میں عوامی رائے کو پیش کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال میں نومبر تک اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوں تو حکومت کی حلیف جماعت کو دو نشستیں گنوانی پڑیں گی۔ سروے میں شہر بالخصوص پرانے شہر میں ٹی آر ایس کے موقف میں بہتری کا اشارہ دیا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے رپورٹ کے مطابق ان اسمبلی حلقہ جات کا بھی انکشاف کردیا جن پر مقامی جماعت کی کامیابی مشکل رہے گی۔ چیف منسٹر خود بھی اس بات پر حیرت میں تھے کہ حلیف جماعت کو کیونکر عوامی ناراضگی کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے قائدین کو ہدایت دی کہ وہ پرانے شہر میں کیڈر کو مستحکم کریں اور اس کی ذمہ داری ڈپٹی چیف منسٹر کو دی جائے گی کیونکہ ان کا تعلق پرانے شہر سے ہے۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ مقامی جماعت کی مقبولیت میں کمی کا فائدہ کانگریس یا بی جے پی کو نہ ہو بلکہ ٹی آر ایس اپنے ترقیاتی اور فلاحی کاموں کے ذریعہ عوامی تائید حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں پرانے شہر کے کئی وارڈس میں ٹی آر ایس امیدوار دوسرے نمبر پر رہے۔ پارٹی قائدین نے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ گریٹر حیدرآباد انتخابات کے نتائج کو پیش نظر رکھتے ہوئے پارٹی کے استحکام پر توجہ مبذول کی جائے۔ چیف منسٹر نے اشارہ دیا کہ سروے رپورٹ جلد پارٹی ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کو روانہ کردی جائے گی تاکہ رپورٹ میں ہر عوامی نمائندہ اپنی کارکردگی کا محاسبہ کرتے ہوئے خامیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ مختلف مسائل پر ٹی آر ایس اور بی جے پی میں بڑھتی قربت کے امکانات کو دیکھتے ہوئے سیاسی مبصرین آئندہ عام انتخابات کو تلنگانہ کیلئے دلچسپ اور فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کئی حلقوں میں نتائج چونکا دینے والے رہیں گے ۔ کہا جا رہا ہے کہ حلیف جماعت کے قائدین کی جانب سے ملک بھر میں دورے کرکے بی جے پی کی مدد کرنے اور اس کی کامیابی کی وجہ بننے کے اپوزیشن نے جو الزامات عائد کئے ہیں وہ عوام میں بھی تقویت پا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ارکان اسمبلی کی عدم کارکردگی کی وجہ سے بھی عوام نالاں ہیں اور ان میں ناراضگی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے مقامی جماعت کو دو نشستوں کا نقصان برداشت کرنا پڑسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT