Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر کے سی آر کی مقبولیت کا سروے فرضی

چیف منسٹر کے سی آر کی مقبولیت کا سروے فرضی

منشور کا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا : سید عظمت اللہ حسینی
حیدرآباد ۔ یکم ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : جنرل سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی سید عظمت اللہ حسینی نے چیف منسٹر کے سی آر کو اپنی مقبولیت مسلمانوں ، طلبہ اور کسانوں میں ثابت کرنے کا چیلنج کیا ۔ سروے کو فرضی قرار دیا ۔ سید عظمت اللہ حسینی نے کہا کہ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں کیے گئے ایک وعدے کو بھی پورا نہ کرنے کے باوجود چیف منسٹر کے سی آر ملک کے مقبول ترین چیف منسٹر کیسے ہوسکتے ہیں ۔ ریاست کے 14 لاکھ طلبہ کو 2 سال سے فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم سے محروم رکھا گیا ہے ۔ 3600 کروڑ روپئے بقایا جات کی عدم اجرائی سے ریاست میں تعلیمی شعبہ بحران کا شکار ہے ۔ کامیابی کے باوجود کالج انتظامیہ طلبہ کو سرٹیفیکٹس جاری کرنے سے انکار کررہے ہیں ۔ کسانوں کے قرض معافی کی تیسری قسط کی مکمل عدم اجرائی سے بنکس کسانوں کو نئے قرض دینے سے انکار کررہے ہیں ۔ حکومت کی غلط زرعی پالیسی کے باعث گذشتہ ڈھائی سال میں 4000 کسانوں نے خود کشی کی ہے ۔ آروگیہ شری اسکیم کے بقایا جات جاری نہ کرنے پر خانگی و کارپوریٹ ہاسپٹلس نے اس اسکیم کے تحت غریب عوام کا علاج کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ ٹی آر ایس کو اقتدار حاصل ہونے کی صورت میں صرف 4 ماہ میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ۔ ڈھائی سال گذرنے کے باوجود مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا گیا ۔ غریب بے گھر افراد میں سالانہ 2 لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات تقسیم کرنے کا وعدہ کیا گیا ۔ تاہم ڈھائی سال میں 5 لاکھ کے بجائے صرف 700 ڈبل بیڈ روم مکانات تقسیم کیے گئے ہیں ۔ قبائلی طبقات کو 12 فیصد تحفظات فراہم نہیں کیے گئے ۔ دلتوں کو 3 ایکڑ اراضی نہیں دی گئی ۔ ہر گھر کو ایک ملازمت کے حساب سے ہر سال ایک لاکھ نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ۔ کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا وعدہ کیا گیا ۔ ان اہم وعدوں میں ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا گیا تو کے سی آر ملک کے مقبول ترین چیف منسٹر کیسے بن سکتے ہیں ۔ لہذا اس سروے کو بوگس قرار نہیں دیا جائے تو اور کیا کہا جائے ۔ سید عظمت اللہ حسینی نے چیف منسٹر کو چیلنج کیا کہ اگر انہیں اپنی مقبولیت پر یقین ہے تو مختلف جماعتوں سے حکمران ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ارکان اسمبلی کے حلقوں میں ضمنی انتخابات کرائے ۔ نتائج سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کتنے مقبول ہیں اور عوام حکومت سے کتنے بدظن ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT