Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر کے سی آر ، مسلمانوں کیلئے 12 فیصد تحفظات کے عہد کے پابند

چیف منسٹر کے سی آر ، مسلمانوں کیلئے 12 فیصد تحفظات کے عہد کے پابند

سدھیر کمیشن کی رپورٹ کے بعد قطعی فیصلہ متوقع ، اقلیتوں کے لیے ٹی آر ایس حکومت کے اقدامات قابل ستائش ، تہنیتی جلسہ سے فاروق حسین کا خطاب
حیدرآباد ۔ 4 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل مسٹر محمد فاروق حسین نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ 12 فیصد مسلم تحفظات کے معاملے میں عہد کے پابند ہیں ۔ مسلمانوں کے مسائل کو حل کرانے کے لیے وہ اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے ۔ آج ان کے ساتھیوں ، حامیوں کی جانب سے ان کی ٹی آر ایس میں شمولیت پر فتح میدان کلب میں تہنیتی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات بتائی ۔ اس تقریب کی صدارت مسٹر شیخ احمد ایاز نے کی ۔ اس موقع پر مسرس افضل احمد ، راشد امتیاز علی ، کلیم الرحمن نمائندہ سیاست سدی پیٹ ، غلام رسول ، میر عابد علی ایڈوکیٹ ، عبدالقادر ، اعجاز شاہین ، شیخ اختر احمد ، قدیر ، رضی الدین ، کاظم محی الدین خان فہد محی الدین خان ، عابد محی الدین مخدوم برادرس ، خواجہ عارف ، احمد عبدالسلیم ، محمد عسکر ، صدیق حسین ، ماجد علی ، فرحت کے علاوہ دوسرے موجود تھے ۔ مسٹر محمد فاروق حسین نے ان کی تہنیتی تقریب کا اہتمام کرنے پر بچپن کے ساتھیوں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سدی پیٹ سے تعلق رکھتے ہیں مگر سارے تلنگانہ میں مسلمانوں کی آواز بن کر ابھرے ہیں ۔ مسلمانوں کے مسائل ، پریشانیاں اور مشکلات کو ارباب مجاز تک پہونچانا ان کی ذمہ داری ہے ۔ جس سے وہ کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کی 2 سالہ کارکردگی بالخصوص اقلیتوں کی ترقی اور بہبود سے متاثر ہو کر وہ 39 سالہ کانگریس سے وابستگی کو ختم کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں تاکہ ریاست کی ترقی اور سماج کے تمام طبقات کی ترقی و بہبود کے لیے بے لوث خدمات انجام دینے والے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کے ساتھ تعاون کرسکے انہیں کانگریس کی قومی قیادت سونیا گاندھی اور راہول گاندھی سے کوئی شکایت نہیں ہے

 

لیکن ریاست کی موجودہ کانگریس قیادت غریبوں سے دور اور دولت مندوں سے قریب ہوگئی ہے ۔ کانگریس میں اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے جذبات و احساسات کی کوئی قدر نہیں جس کی وجہ سے کانگریس پارٹی اقتدار سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ سماج کے تمام طبقات کی تائید سے محروم ہوگئی ہے ۔ وہ سابق وزیر مدن موہن کے شاگرد ہے جس پر انہیں فخر ہے ۔ کانگریس میں حوصلہ افزائی کرنے پر وہ غلام نبی آزاد ، وی ہنمنت راؤ اور سروے ستیہ نارائنا سے اظہار تشکر کرتے ہیں ۔ مسٹر محمد فاروق حسین نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے معاملے میں عہد کے پابند ہیں ۔ اس مسئلہ پر انکی چیف منسٹر سے بات چیت ہوچکی ہے ۔ کے سی آر اور مسلمانوں سے کئے گئے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کے معاملے میں سنجیدہ ہے ۔ سدھیر کمیشن رپورٹ کا انتظار ہے ۔ رپورٹ ملتے ہی مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی کارروائی کا آغاز ہوجائے گا ۔ انہوں نے حکومت کے فلاحی اسکیمات بالخصوص شادی مبارک اسکیم وغیرہ سے بھر پور فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا ۔ مسٹر شیخ احمد ایاز نے صدارتی تقریر میں مسٹر محمد فاروق حسین کے ساتھ تمام ساتھیوں کے بچپن کی یادوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ بچپن سے شریف النفس ، ملنسار ، عوامی خدمات گذار قائدانہ صلاحیتوں کے مالک تھے ۔ عوامی خدمات کا جذبہ ان کی رگ رگ میں بھرا ہوا ہے ۔ یوتھ کانگریس سے رکن قانون ساز کونسل بننے کے باوجود ان میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوئی ہے ۔ مصروفیات کے باوجود فاروق حسین سال میں ایک دن اپنے بچپن کے ساتھیوں کے ساتھ گزارنے کی روایت پر قائم ہے ۔ ان کی ٹی آر ایس میں شمولیت سے قوم کا ہی فائدہ ہوگا ۔ مسٹر میر عابد علی ایڈوکیٹ نے کہا کہ فاروق حسین کے روپ میں قوم کو ایک مخلص قائد ملا ہے ۔ جن کے دروازے عوام کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں اور وہ ہمیشہ عوام کو دستیاب رہتے ہیں ۔ مسٹر محمد فاروق حسین پر سدی پیٹ کے عوام بالخصوص مسلم

TOPPOPULARRECENT