Thursday , February 22 2018
Home / Top Stories / چیف منسٹر کے کندھے کی سواری، قیادت کی نئی پالیسی

چیف منسٹر کے کندھے کی سواری، قیادت کی نئی پالیسی

حلقے کے دورے کیسے یاد آئے ، کیا دہلی کے آقا نے جلد انتخابات کا اشارہ دیا؟
حیدرآباد ۔10۔ نومبر (سیاست نیوز) پرانے شہر میں گرتی ہوئی ساکھ بچانے مقامی جماعت نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی مقبولیت کا سہارا لینے کی تیاری کرلی ہے۔ اسمبلی سیشن میں اقلیتوں سے متعلق مختلف اعلانات کا سہرا اپنے سر باندھنے کے باوجود مسلمان اعلانات پر عمل آوری کے سلسلہ میں پرامید نہیں ہیں۔ ان حالات میں مقامی جماعت کو اندازہ ہوچکا ہے کہ اسمبلی اعلانات کے ذریعہ وہ مسلمانوں کی تائید حاصل نہیں کرسکتی اور نہ پرانے شہر میں کمزور موقف کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ لہذا قیادت نے کے سی آر کا سہارا لینے اور ترقیاتی کاموں کے بہانے پرانے شہر کے دورہ کا اہتمام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی جماعت کے برادران کی جانب سے گزشتہ دو ماہ سے چیف منسٹر سے خواہش کی جارہی ہے کہ وہ پرانے شہر کا دورہ کرتے ہوئے ترقیاتی اسکیمات کا سنگ بنیاد رکھیں اور افتتاح انجام دیں۔ اس دورہ کے ذریعہ وہ رائے دہندوں میں یہ تاثر دینے کی کوشش کریں گے کہ چیف منسٹر ان کے ہر مطالبہ کو قبول کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ کے سی آر نے چیف منسٹر کی حیثیت سے یوں تو پرانے شہر کا ایک سے زائد مرتبہ دورہ کیا لیکن ترقیاتی کاموں کے افتتاح کے سلسلہ میں مختلف اسمبلی حلقہ جات کا بیک وقت احاطہ نہیں کیا گیا۔ سابق میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے پرانے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے مقامی جماعت کو تقویت پہنچائی تھی۔ حکومت بھلے ہی کسی پارٹی کو ہو لیکن مقامی جماعت چیف منسٹر کی مقبولیت کو اپنے سیاسی فائدہ کیلئے استعمال کرنے میں شہرت رکھتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق برادران کے مسلسل اصرار پر چیف منسٹر نے ڈسمبر کے اواخر یا جنوری کے اوائل میں پرانے شہر کے دورہ سے اتفاق کیا ہے۔ اس دورہ کی تیاریاں ابھی سے شروع کردی گئی ہیں۔ چیف منسٹر نے حال میں آبرسانی اور سیوریج سسٹم کیلئے 43 کروڑ روپئے منظور کئے تھے ۔

اس کے علاوہ اسمبلی میں فلک نما اور چنچل گوڑہ کالجس کیلئے فی کس 20 کروڑ کا اعلان کیا گیا۔ مقامی قیادت چاہتی ہے کہ بیک وقت 3 تا 4 اسمبلی حلقوں میں چیف منسٹر کے دورہ کا انتظام کیا جائے اور مختلف کاموں کا آغاز ہو تاکہ عوام میں یہ پیام پہنچے کہ پرانے شہر کی ترقی کیلئے مقامی قیادت کی مساعی کو چیف منسٹر کی تائید حاصل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسمبلی اجلاس کے دوران بھی پارٹی فلور لیڈر نے چیف منسٹر کو پرانے شہر کے دورے سے متعلق یاد دہانی کرائی۔ اب جبکہ مسلم مسائل کی بنیاد پر مقامی جماعت مسلمانوں میں مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ لہذا اب ترقیاتی کاموں کا ایجنڈہ بتاکر چیف منسٹر کے دورہ کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق برسر اقتدار پارٹی کے پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے قائدین چیف منسٹر کے مقامی جماعت کی طرف جھکاؤ سے ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2001 سے انہوں نے پارٹی پرچم اٹھایا اور تلنگانہ تحریک کیلئے قربانیاں دیں لیکن ہمیشہ انتخابات سے قبل مقامی جماعت حکومت سے ساز باز کرتی ہے جس سے پرانے شہر کے قائدین اور کارکنوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ مقامی جماعت میں داخلی خلفشار و ارکان اسمبلی میں بڑھتی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے برادران 2019 کے انتخابات کی حکمت عملی کی تیاری میں ابھی سے مصروف ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر کے بعض دولت مند گھرانوں کی نشاندہی کی جارہی ہے، جنہیں آئندہ انتخابی میدان میں اتارا جاسکتا ہے۔ ان حالات میں سوال یہ ہے کہ کیا چیف منسٹر مقامی جماعت کی تقویت کیلئے اپنی مقبولیت کو داؤ پر لگائیں گے ؟ چیف منسٹر اگر پرانے شہر کا دورہ کرتے ہیں تو انہیں مسلم تحفظات اور دیگر وعدوں پر عمل آوری کے سلسلہ میں مسلمانوں کے سوالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ٹی آر ایس ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر اسمبلی میں مقامی جماعت کی مخالفت سے بچنے مختلف اعلانات کر رہے ہیں۔ لیکن وہ انتخابات کے موقع پر سیکولر کردار کو داغدار کرنے فرقہ پرست طاقتوں کو گلے نہیں لگائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT