Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / چیف منسٹر یوپی کے انتخاب پر بی جے پی میں تذبذب برقرار

چیف منسٹر یوپی کے انتخاب پر بی جے پی میں تذبذب برقرار

راج ناتھ سنگھ کا نام مقدم لیکن مرکزی وزیر چیف منسٹر بننے کیلئے آمادہ نہیں، کیشو موریا اور ادتیہ ناتھ کے نام بھی زیرگشت

لکھنؤ 16مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زبردست اکثریت حاصل کر لینے کے بعد بھی وزیر اعلیٰ کے نام پر تذبذب اب بھی برقرار ہے ۔’مودی میجک ‘کے ذریعے ریاست میں 325 نشستیں حاصل کرنے والی بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لئے کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ اگرچہ تمام قائدین یہ کہتے ہیں کہ جسے وزیر اعظم نریندر مودی چاہتے ہیں، وزیر اعلیٰ وہی ہوگا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کا نام مودی نے طے کرلیا ہو گا۔ ان کے علاوہ اگر کسی لو بالکل ٹھیک پتہ ہوگا تو وہ صدر بی جے پی امیت شاہ ہوں گے ۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کو بھی اس کی خبر ہو سکتی ہے ۔سیاسی تجزیہ کار اور بی جے پی امور کے ماہر راجہ رام سنگھ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان لکھنؤ میں مقننہ پارٹی کی میٹنگ میں ہی کیا جائے گا۔ اس عہدے کے لئے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا نام سب سے آگے ہے

لیکن وہ وزیر اعلیٰ بننے سے انکار کر رہے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی بحث ہے کہ انتخابات میں انتہائی پسماندہ طبقہ کی وسیع حمایت ملی ہے اس لئے وزیر اعلیٰ بھی اسی طبقے کا ہو سکتا ہے ۔ سیاسی راہداریوں میں پچھڑے طبقے سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے ریاستی صدر کیشو پرساد موریہ کا نام بھی وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لئے لیا جارہا ہے۔اگرچہ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممبران پارلیمنٹ ہونے کے ناطے موریہ کا نام کٹ بھی سکتا ہے ۔اس کے علاوہ ریلوے کے وزیر مملکت منوج سنہا، یوگی ادتیہ ناتھ، سریش کھنہ، بی جے پی کے نائب صدر اور لکھنؤ کے میئر دنیش شرما، متھرا سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے سری کانت شرما اور سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے پوتے اور الہ آباد سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئے سدھارتھ سنگھ کا نام میں بھی لیا جارہا ہے ۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہو سکتا ہے ہریانہ کی طرح کوئی ایسا چہرہ بھی سامنے لایا جا سکتا ہے جو عام طور پر سرخیوں میں نہ رہتا ہو۔

راجیہ سبھا میں مودی پر اپوزیشن کا طنز
نئی دہلی ، 16 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج راجیہ سبھا کو وقفہ سوالات کے دوران تقریباً 15 منٹ کیلئے آئے، جو حالیہ اسمبلی چناؤ کے نتائج کا اعلان ہونے کے بعد سے ایوان بالا میں اُن کی پہلی حاضری ہوئی۔ جیسے ہی وزیراعظم 12:10 بجے ایوان میں داخل ہوئے ، سرکاری بنچوں کے اراکین اُٹھ کھڑے ہوئے۔ وزیراعظم اور اُن کے دفتر سے متعلق سوالات ایوان بالا میں ہر جمعرات کو اٹھانے کا نظم ہے۔ تاہم بعض اپوزیشن ارکان نے اُن پر طنز کرتے ہوئے کہا، ’’دیکھو دیکھو کون آیا ہے، ہندوستان کا شیر آیا ہے‘‘۔ مودی وقفہ سوالات میں 15 منٹ اپنی نشست پر رہے اور کیندریا ودیالیہ (اسکولوں) میں خالی جائیدادوںاور غلاظت کی صفائی کے معاملوں پر ارکان کے سوالات سنے۔ وہ 12:25 بجے ایوان سے چلے گئے۔

TOPPOPULARRECENT