Tuesday , December 12 2017
Home / سیاسیات / چیف ویجلنس کمیشن کے تقرر پر تنازعہ مرکزی حکومت سے سپریم کورٹ کی وضاحت طلبی

چیف ویجلنس کمیشن کے تقرر پر تنازعہ مرکزی حکومت سے سپریم کورٹ کی وضاحت طلبی

نئی دہلی ۔ 13 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : سپریم کورٹ نے آج مرکزی حکومت اور حالیہ نامزد سنٹرل ویجلنس کمشنر ( سی وی سی ) کے وی چودھری اور ویجلنس کمشنر ( وی سی ) ٹی ایم بھیسن سے ایک تازہ عرضی پر جواب طلب کیا ہے جس میں دونوں عہدیداروں کے تقرر کو اس بنیاد پر چیلنج کیا ہے کہ ان کا ریکارڈ پاک و صاف نہیں ہے ۔ چیف جسٹس ایچ ایل داتو کی زیر قیادت 3 رکنی بنچ نے ایک این جی او کامن کاز کی پیش کردہ درخواست مفاد عامہ پر اندرون دو ہفتے جواب طلب کیا ہے ۔ تاہم بنچ نے این جی او کے وکیل پرشانت بھوشن سے کہا ہے کہ سی وی سی اور وی سی سے متعلق مختلف ریکارڈس طلب کرنے کے لیے ایک علحدہ عرضی داخل کریں ۔ سینئیر ایڈوکیٹ رام جیٹھ ملانی جو کہ اس کیس کی پیروی کررہے ہیں اس خصوص میں مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کردہ ریکارڈس کی تنقیح کے لیے عدالت سے اجازت طلب کی ہے ۔

تاہم بنچ کے دیگر ارکان جسٹس ارون مصرا اور جسٹس امیتاؤ رائے نے کہا کہ ریکارڈس پہلے ہمارے سامنے آنے چاہئے اور سب سے پہلے ہمیں اس کا معائنہ کرنا ہوگا ۔ درخواست گذار نے سی وی سی اور وی کے تقرر کو اس بنیاد پر چیلنج کیا کہ ان کا کلین ریکارڈ نہیں ہے اور ان کے تقرر کے لیے غیر شفاف طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ چودھری کا سی وی کی حیثیت سے 6 جون کو تقرر کیا گیا جب کہ بھیسن نے وی سی کی حیثیت سے 11 جون کو جائزہ حاصل کیا تھا ۔ درخواست مفاد عامہ میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کا تقرر محرکات پر مبنی ، غیر قانونی اور ادارہ کے اصولوں کے مغائر ہے اور یہ شکایت کی گئی کہ حکومت نے سی وی سی اور وی سی کے تقرر سے قبل امیدواروں کی فہرست کو منظر عام پر نہیں لایا اور کلیدی عہدوں پر چودھری اور بھیسن کا اچانک تقرر کردیا گیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT