چین، مالدیپ کو ایک اور ’’فلیش پوائنٹ‘‘ بنانا نہیں چاہتا

کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز
کرتے ہوئے اس کی خودمختاری کا احترام ضروری
ڈوکلام اور حافظ سعید کوعالمی دہشت گرد قرار دینے
چین کی مخالفت کا تنازعہ برقرار
مالدیپ کے اکنامک ڈیولپمنٹ وزیر محمد سعید چین
کے دورہ پر

بیجنگ ۔ 9 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) چین نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ مالدیپ میں اس وقت جو سیاسی اتھل پتھل ہے اس کی یکسوئی کیلئے وہ ہندوستان کے ساتھ مسلسل ربط میں ہے۔ چین نے البتہ یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملہ کو (مالدیپ) ایک اور ’’فلیش پوائنٹ‘‘ میں تبدیل کرنا نہیں چاہتا۔ حالانکہ چین مسلسل یہ بھی کہتا آرہا ہیکہ مالدیپ کے داخلی معاملات میں کسی بیرونی ملک کی دخل اندازی مناسب نہیں جیسا کہ یہ رپورٹس مل رہی ہیں کہ ہندوستانی فوج مالدیپ میں تعیناتی کیلئے بالکل تیار ہے، چین نے ہندوستان سے بھی مسلسل ربط میں رہتے ہوئے مالدیپ کے بحران کے خاتمہ کیلئے تبادلہ خیال کیا ہے۔ چینی ذرائع نے بھی اس بات کی توثیق کی کہ چین مالدیپ کو ایک ’’فلیش پوائنٹ‘‘ میں تبدیل کرنا نہیں چاہتا۔ یاد رہیکہ ہندوستان اور چین کے درمیان ڈوکلام اور پاکستان کے مسعود اظہر کو عالمی دہشت قرار دینے کی مخالفت کرنے پر تنازعات اب بھی برقرار ہیں۔ دریں اثناء چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو مالدیپ کی آزادی اور خودمختاری کا احترام کرنا چاہئے۔ یہ بات انہوں نے مالدیپ سے متعلق پوچھے جانے والے کئی سوالوں کے جواب میں کہی جہاں وزیراعظم ہند نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان مالدیپ کے موضوع پر ہوئی ٹیلیفون بات چیت کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مالدیپ میں اس وقت جو صورتحال ہے وہ ملک کا داخلی معاملہ ہے جس کی مناسب یکسوئی صرف بات چیت کے ذریعہ ہی ہوسکتی ہے یا پھر تمام پارٹیوں کو مل بیٹھ کر باہم مشاورت کرنی چاہئے۔ دوسری طرف مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین نے اپنے اکنامک ڈیولپمنٹ کے وزیر محمد سعید کو چین روانہ کیا ہے تاہم ہندوستان کا یہ موقف ہیکہ وہ مالدیپ کے کسی بھی وزیر کے دورہ ہند کیلئے دستیاب تاریخیں الاٹ نہیں کرسکتا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی مالدیپ کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔ بہرحال اس نکتہ پر زور دیا جارہا ہیکہ مالدیپ کے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہ کی جائے اور اس کی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے معاون سکریٹری جنرل میروسلاف جنیکا نے یہ بات دراصل اس تناظر میں کہی ہے جہاں ہندوستانی فوج کو مالدیپ میں تعیناتی کیلئے تیار رکھا گیا ہے۔ ہمیں اس وقت مالدیپ میں تعمیری رول ادا کرتے ہوئے اس کے داخلی استحکام کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے بجائے اس کے کہ وہاں افراتفری پھیلائی جائے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسٹر سعید نے چینی وزیرخارجہ وانگ لی سے ملاقت کرتے ہوئے انہیں مالدیپ کے داخلی حالات سے پوری واقفیت کروائی اور یہ کہا کہ مالدیپ حکومت بھی قانون کی بالادستی کو قائم رکھے اور یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال کو بہرقیمت معمول پر لایا جائے گا۔ مسٹر سعید نے مسٹر وانگ سے کہا کہ اس وقت مالدیپ میں جو چینی عہدیدار موجود ہیں اور اس کے تعلیمی ادارے بھی ہیں، مالدیپ ان کے تحفظ کی پوری اہلیت رکھتا ہے۔ مسٹر وانگ کے مطابق چین مالدیپ کے داخلی معاملات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور قانون کی بالادستی قائم رکھتے ہوئے جلد ہی حالات کے بہتر ہونے کا منتظر ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ مالدیپ کے عوام اپنا مسئلہ خود حل کرلیں گے۔ آج کل یہ فیشن بن گیا ہیکہ کسی چھوٹے ملک میں سیاسی افراتفری پیدا ہوتے ہی بڑے پڑوسی ممالک بے چین ہوجاتے ہیں اور اس ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہندوستان نے یوں تو داخلی معاملات میں مداخلت کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے لیکن ہندوستانی فوج کی جس تیاری کا تذکرہ کیا جارہا ہے وہ دراصل سابق صدر محمد نشید کی درخواست پر ہوا ہے جنہوں نے ہندوستان سے درخواست کی تھی کہ مالدیپ میں ہندوستانی فوج کو تعینات کیا جائے۔ بہرحال اب تک یہ معلوم نہیں ہوا ہیکہ محمد سعید کے دورہ چین کے کیا مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT