Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / چینائی میںسیلاب سے نمٹنے مرکزی حکومت کی ہر ممکنہ امداد کا تیقن

چینائی میںسیلاب سے نمٹنے مرکزی حکومت کی ہر ممکنہ امداد کا تیقن

لوک سبھا میں ارکان کی تشویش پر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا بیان ۔ سنگین صورتحال میں ریاستی حکومتوںسے مسلسل ربط

نئی دہلی 3 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سیلاب سے متاثرہ چینائی کی صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج لوک سبھا میں کہاکہ اس قدرتی آفت سے نمٹنے میں مرکز کی جانب سے ریاست کے ساتھ ہرممکن تعاون کیا جائے گا۔ انھوں نے ٹاملناڈو، پڈوچیری اور آندھراپردیش میں سیلاب کی صورتحال پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے بتایا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ چینائی ایک جزیرہ میں تبدیل ہوچکا ہے کیوں کہ تمام قومی اور ریاستی شاہراہوں سے اس کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ اس قدرتی آفت کی سنگینی کے بارے میں ارکان کی تشویش سے تعلق خاطر کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ میٹرو پولیٹن شہر چینائی اس وقت انتہائی غیر متوقع ہنگامی صورتحال سے دوچار ہے جہاں اس قدر تیز اور شدید بارش ہوئی جس کی مثال گزشتہ ایک سو سال میں نہیں ملتی۔ انھوں نے بتایا کہ 2 ڈسمبر کو 8.30 بجے صبح سے پہلے کے چوبیس گھنٹوں میں 330 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی اور حقیقت تو یہ ہے کہ سارے ماہ ڈسمبر میں عام طور پر بحیثیت مجموعی 250 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ موسلا دھار بارش کے سبب ٹاملناڈو میں 269 افراد ہلاک ہوئے جبکہ پڈوچیری میں 2 اور آندھراپردیش میں مہلوکین کی تعداد 54 رہی۔ حکومت کی جانب سے بچاؤ اور راحت کاری کے ضمن میں فراہم کی جانے والی مدد کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ بحریہ کی 12 کشتیوں کے ساتھ ساتھ 155 رکنی عملہ کی خدمات سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہاکہ ہندوستانی فضائیہ بھی این ڈی آر ایف کی 14 ٹیمیں تعینات کرتے ہوئے مدد کررہا ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ ریاستی حکومت نے 8,481 کروڑ روپئے کی مدد طلب کی ہے اور مرکز نے 940.92 کروڑ روپئے فراہم کئے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ مرکزی ٹیم کی جاریہ ہفتہ رپورٹ متوقع ہے جس کے بعد مزید امداد دی جائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے علاوہ خود انھوں نے بھی چیف منسٹر جیہ للیتا سے بات کی۔ راج ناتھ سنگھ نے آندھراپردیش اور پڈوچیری کے چیف منسٹرس سے بھی بات کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آندھراپردیش نے 1000 کروڑ روپئے عبوری راحت کی درخواست کی ہے۔ مرکزی ٹیم بہت جلد آندھراپردیش کا دورہ کرے گی۔ جب انھوں نے کہاکہ مغربی بنگال کو 387 کروڑ روپئے فراہم کئے جارہے ہیں تو ٹی ایم سی ارکان اس پر برہم ہوگئے اور پارٹی ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ ٹی ایم سی لیڈر سدیپ بندوپادھیائے نے جس انداز میں ریاست کی مدد فراہم کی جارہی ہے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہاکہ ریاست نے سیلاب ریلیف کے لئے 6000 کروڑ روپئے اور خشک سالی ریلیف کے لئے 4,000 کروڑ روپئے کا مطالبہ کیا تھا۔ بی جے ڈی لیڈرس بی مہتاب اور ٹی ست پتھی نے بھی اڈیشہ کو 280 کروڑ روپئے مختص کرنے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ یہ ریاست بھی طوفان سے بُری طرح متاثر رہی تھی۔

TOPPOPULARRECENT