Monday , July 16 2018
Home / دنیا / چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ‘ کا ملبہ بالآ خر جنوبی بحرالکاہل میں گرا

چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ‘ کا ملبہ بالآ خر جنوبی بحرالکاہل میں گرا

l 2011ء میں چھوڑی گئی خلائی گاڑی نے 2016ء
میں کام کرنا بند کردیاتھا
l ماہرین کو ملبہ گرنے کے صحیح مقام کے اندازے
میں مشکلات کا سامنا
l ملبہ کا کسی شخص پر گرنے کا کوئی امکان نہیں
بیجنگ ،2اپریل(سیاست ڈاٹ کام) چین اور امریکہ سے موصول ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ناکارہ چینی خلائی اسٹیشن زمین کے فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی زیادہ تر بکھر گیا اور جنوبی بحرالکاہل میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرا۔چین کے انسانی خلائی انجینئرنگ دفتر نے بتایا کہ یہ زمین کی خلائی حدود میں گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق رات 12 بج کر 15 منٹ (ہندوستانی وقت کے مطابق 8:42 بجے پر داخل ہوا۔بی بی سی کے مطابق تیانگونگ -1نامی یہ مصنوعی سیارہ چین کے پرعزم خلائی پروگرام کا حصہ تھا اور 2022 میں ایک انسان بردار سٹیشن قائم کرنے کے منصوبے کی پہلی کڑی۔آٹھ ٹن وزنی اس خلائی گاڑی کو 2011 میں مدار میں چھوڑا گیا تھا لیکن 2016 میں اس نے کام کرنا بند کر دیا۔خلائی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جنوبی بحرالکاہل پر گرا ہے لیکن یہ ایک وسیع خطہ ہے ۔ہارورڈ سمتھسونین سینٹر کے خلاباز جوناتھن میک ڈاؤل نے کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تاہیٹی کے شمال مغرب میں گرا ہے ۔ماہرین کو اس کے گرنے کی جگہ کے تعین میں مشکلات کا سامنا تھا اور چینی خلائی ایجنسی نے اس کے زمین کے فضائی حدود میں داخل ہونے سے کچھ دیر قبل یہ بات کہی کہ یہ برازیل کے ساؤ پالو سے دور گرے گا جو کہ غلط اندازہ تھا۔یوروپی اسپیس ایجنسی نے پہلے ہی کہا تھا کہ تیانگونگ-1 سمندر پر ٹوٹ کر بکھر جائے گا۔ اس نے کہا تھا کہ اس کے ملبے کا کسی شخص پر گرنے کا امکان کسی شخص کے آسمانی بجلی کی زد میں آنے سے ایک کروڑ گنا کم ہے ۔بہر حال ابھی یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ کتنا ملبہ زمین پر جوں کا توں گرا ہے ۔اصولی طور پر دس میٹر لمبے تیانگونگ کو مدار سے منصوبہ بند طریقے سے ہٹایا جانا چاہیے تھا۔ روایتی طور پر اس بڑی خلائی گاڑی پر تھرسٹر داغ کر اسے جنوبی سمندر کے دور دراز علاقے میں گرانا چاہیے ۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کمانڈ کا رابطہ منقطع ہونے کے بعد وہاں یہ متبادل نہیں رہ گیا تھا۔یوروپی اسپیس ایجنسی کی قیادت میں 13 اسپیس ایجنسیاں راڈار اور دوربین کے ذریعے تیانگونگ کے گرنے کے عمل پر نظر رکھ رہے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT