Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / چینی مانجہ سستا ، مگر زندگی کے لیے مہنگا

چینی مانجہ سستا ، مگر زندگی کے لیے مہنگا

چینی مانجے کے خلاف تاجرین میں برہمی ، دیسی مانجہ بنانے والے بے روزگار

چینی مانجے کے خلاف تاجرین میں برہمی ، دیسی مانجہ بنانے والے بے روزگار
حیدرآباد ۔ 12 ۔ جنوری : ( نمائندہ خصوصی ) : جس طرح چینی معیشت ہندوستانی معیشت کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے ۔ اسی طرح چینی مانجہ بھی ہندوستانی مانجوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے ۔ ایک طرف یہ مانجہ آسمان میں پتنگوں کو کاٹتا ہے تو دوسری طرف زمین پر انسانی اجسام کو بھی کاٹ رہا ہے اور دیسی معیشت کو بھی ۔ دراصل یہ اس قدر سستا ہے کہ لوگ اسے ہی خریدنا اور فروخت کرناچاہتے ہیں ، مگر یہ اس قدر سخت ہے کہ توڑنے سے ٹوٹتا نہیں اور اگر غلطی سے کسی گلے یا جسم میں اٹک جائے تو یہ اسی حصے کو کاٹ ڈالتا ہے ۔ دراصل سنکرانتی تہوار کی وجہ سے ملک بھر میں پتنگوں اور مانجوں کی خرید و فروخت زوروں پر ہے ۔ مگر گذشتہ چند برسوں سے بازار میں چائینا کے مانجہ کا قبضہ ہے ۔ ایک وقت تھا جب حیدرآباد اور ملک کے مختلف شہروں میں ہاتھ سے بنایا گیا مانجہ کی زبردست مانگ تھی ، لوگ اسے پہلے سے ہی خرید کر اپنے پاس محفوظ کرلیتے تھے ۔ مگر جب سے چائینا کا مانجہ مارکٹ پر حاوی ہوا ہے دیسی مانجہ کے کاریگر بے روزگار ہوگئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جہاں دیسی مانجہ 5 تا 6 سو روپئے کیلو ملتا ہے وہیں چائنا کا مانجہ محض دیڑھ تا دو سو روپئے کیلو دستیاب ہے ۔ اس سلسلے میں گلزار حوض ، دبیر پورہ ، منگل ہاٹ ، حسینی علم اور دیگر مقامات کا دورہ کیا گیا تو جہاں دکانداروں سے معلوم ہوا کہ چائنا کے مانجہ سے برقی تار ٹچ ہونے پر شاٹ بھی ہورہا ہے ۔ اگر پرندے ٹکرا گئے تو اس کی موت یقینی ہے ۔ یہ اس قدر مضبوط اور سخت ہوتا ہے کہ اس سے ہاتھ اور جسم زخمی ہورہا ہے ۔ بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ چائنا کے مانجہ سے ہمارا بھی نقصان ہورہا ہے کیوں کہ پہلے یہ ہم ہی تیار کرتے تھے ۔ ہم ہی فروخت کرتے تھے جس سے چار پیسے بچ جاتے تھے لیکن چائنا کا مانجہ آجانے سے ہم حیدرآبادی مانجہ بیچنے والوں کی ’ سادی ‘ میں سے روزگار کی صفائی کردی ۔ واضح رہے کہ چینی مانجہ کے خلاف قومی چینلوں پر خصوصی فیچرس نشر کیے جارہے ہیں ۔ یو پی ، دہلی اور دیگر مقامات پر بھی چینی مانجے کے خلاف لوگ سڑکوں پر اتر کر احتجاج کررہے ہیں ۔ بعض مقامات پر نکڑ ناٹک کے ذریعہ بھی لوگوں میں چینی مانجہ کے خلاف شعور بیدار کیا جارہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بریلی کا مانجہ پورے ہندوستان میں مشہور ہے اور اس مانجے کی ملک بھر میں مانگ تھی مگر چائنا کے مانجہ نے بریلی کی اس مشہور صنعت پر بھی ضرب لگادی ہے ۔ تاہم اب لوگوں میں اس کے خلاف شعور بیدار ہورہا ہے ۔ یوپی کے شہر وارانسی کے بچے سڑکوں پر نکل کر لوگوں کو اس کے پائے جانے والے خطرات سے آگاہ کررہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک بھر میں اس کے خلاف احتجاج چل پڑے گا ۔ بہر حال ضرورت اس بات کی ہے کہ پتنگ کاٹنے کے بجائے اپنے فضول خرچ کو کاٹنے کی کوشش کی جائے ۔ خاص کر مسلم نوجوان اور بچے اس فضول خرچی سے اجتناب کریں تاکہ پیسوں کی بربادی کے ساتھ ساتھ اس سے ہونے والے نقصانات سے محفوظ رہا جاسکے ۔۔

TOPPOPULARRECENT