Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / چینی مانجہ پر پابندی کے باوجود شہر میں فروخت جاری

چینی مانجہ پر پابندی کے باوجود شہر میں فروخت جاری

انسانوں اور پرندوں کو خطرہ لاحق، سرکاری ایجنسیاں خاموش تماشائی

حیدرآباد۔8۔جنوری (سیاست نیوز) چینی مانجہ پر مکمل پابندی کے باوجود شہر میں چینی مانجہ کی فروخت جاری ہے ۔ چینی مانجہ انتہائی خطرناک مانجہ ہے جس سے نہ صرف پرندوں بلکہ انسانوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ حالیہ برسوں میںچینی مانجہ سے پیش آنے والے حادثات کے سبب حکومت کے مختلف محکمہ جات کی جانب سے چینی مانجہ پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی گئی تھی ۔ اس پابندی کے باوجود چینی مانجہ کی فروخت کا جاری رہنا ان سرکاری ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے جو چینی مانجہ کی فروخت کو روکنے کی مجاز ہیں۔ چینی مانجہ بالواسطہ طور پر ماحولیات کے لئے بھی مضر ہے کیونکہ چینی مانجہ سے فضاء میں اڑنے والے پرندوں کے گلے اور پر زخمی ہو رہے ہیں اور یہ مانجہ اگر کہیں پھنس جاتا ہے تو اسے ختم ہونے کے لئے برسوں لگ جاتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے چینی مانجہ کی فروخت پر عائد پابندی کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کے متعلق شعور اجاگر کرنا ضروری ہے کیونکہ اس مانجہ سے سڑک پر چلنے والے انسانوں اور پتنگ لوٹنے کی کوشش کرنے والے بھی زخمی ہو رہے ہیں اور سابق میں ایسے زخمیوں کو ٹانکے دینے کی نوبت آچکی ہے اسی لئے اس مانجہ کے استعمال سے اجتناب کیا جانا ضروری ہے کیونکہ یہ مانجہ کسی کو اپاہج بھی کرسکتا ہے اسی لئے احتیاط کرنی چاہئے کہ ہماری وجہ سے کسی کو تکلیف نہ ہونے پائے۔ تلسنکرات کے موقع پر پتنگ بازی کیلئے استعمال کئے جانے والے اس مانجہ کے سبب کئی افراد زخمی ہو چکے ہیں اور سینکڑوں پرندے مانجہ کی زد میں آنے کے سبب ہلاک ہو چکے ہیں اسی لئے ضروری ہے کہ اس مانجہ کی فروخت کو روکنے کے لئے سخت گیر اقدامات کئے جائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ چند برسوں کی بہ نسبت چینی مانجہ کی فروخت میں نمایاں کمی ریکارڈکی گئی اور دیسی مانجہ فروخت کیا جانے لگا ہے لیکن اس کے باوجود اب بھی چند مقامات پر چینی مانجہ کی فروخت جاری ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔ پتنگ اور مانجہ کی تجارت سے وابستہ تاجرین کا کہنا ہے کہ دونوں شہروں میں چینی مانجہ نے دیسی مانجہ کی تیزی سے جگہ لے لی تھی لیکن جاریہ برس اس کی فروخت میں نمایاں گراوٹ کی توقع کی جا رہی ہے مگر اس کے باوجود شرطیہ پتنگ بازی کرنے والوں کی اولین ترجیح چینی مانجہ بنی ہوئی ہے جس کے سبب یہ مانجہ بعض مقامات پر فروخت کیا جا رہا ہے اگر فروخت پر پابندی عائد کرنی ہے تو اس کے نقصانات سے بھی شہریوں بالخصوص نوجوانوں کوواقف کروایا جانا چاہئے تاکہ اس مانجہ کی فروخت کو مکمل طور پر روکتے ہوئے حادثات سے محفوظ تہوار یقینی بنایا جا سکے۔

TOPPOPULARRECENT