Wednesday , December 19 2018

چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت

نیویارک 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) چین نے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کی حیثیت پہلی بار حاصل کرلی ہے اور امریکہ کو اس نے پیچھے چھوڑدیا ہے ۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اعداد و شمار کے بموجب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وائیٹ ہاؤز اِس خبر سے حیرت زدہ ہوگیا ہے۔ چہارشنبہ کے دن امریکہ کی نسبتاً معاشی طاقت دنیا کے باقی ممالک کے مقابلہ میں دوسرے مقام پر

نیویارک 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) چین نے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کی حیثیت پہلی بار حاصل کرلی ہے اور امریکہ کو اس نے پیچھے چھوڑدیا ہے ۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اعداد و شمار کے بموجب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وائیٹ ہاؤز اِس خبر سے حیرت زدہ ہوگیا ہے۔ چہارشنبہ کے دن امریکہ کی نسبتاً معاشی طاقت دنیا کے باقی ممالک کے مقابلہ میں دوسرے مقام پر پہونچ گئی۔ 1872 ء میں برطانیہ سے یہ مقام حاصل کرنے کے بعد امریکہ ہمیشہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت بنارہا تھا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے بموجب چینی معیشت 17 کھرب 61 ارب امریکی ڈالر مالیتی ہوگئی ہے۔ جبکہ امریکی معیشت کی مالیت صرف 17 کھرب 40 ارب امریکی ڈالر مالیتی ہے۔ چین نے حالیہ دہائیوں میں تیز رفتار صنعتی ترقی کی ہے اور اپنی سبقت میں اضافہ کیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تخمینہ کے بموجب اِس کی معیشت کی مالیت 2019 ء میں 26 کھرب 98 ارب امریکی ڈالر ہوجائے گی۔ یہ امریکی معیشت سے 20 فیصد زیادہ ہوگی جو ایک پیش قیاسی کے بموجب 2019 ء تک 22 کھرب 30 ارب امریکی ڈالر مالیتی ہوجائے گی۔ وائیٹ ہاؤز کے پریس سکریٹری جوش ارنیسٹ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اِس خبر سے حیرت زدہ رہ گئے ہیں۔

اِس سوال پر کہ روس کی معیشت صفر کے مقام پر پہونچ جانے اور یوروپ میں دیگر مشکلات بشمول جرمنی کی جانب سے انحطاط کی وجوہات تلاش کرنے کی وجہ سے صحت اور عالمی معیشت کا تخمینہ ضروری ہوگیا ہے۔ یہ حالات جوش ارنیسٹ کے بموجب صدر امریکہ کی پالیسیوں کو بہتر ثابت کرتے ہیں۔ یقینا امریکی معیشت نے کافی اچھا مظاہرہ کیا ہے۔ امریکہ جس انداز کا صبر و تحمل دیگر ممالک کی بہ نسبت اختیار کررہا ہے، اُس کی وجہ سے اِس کی معیشت میں موجودہ انحطاط آیا ہے۔ انتظامیہ کی پالیسیوں کا اِس میں کچھ بھی حصہ نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ صدر امریکہ کی معاشی پالیسیاں بہترین ہیں جن سے پوری دنیا امریکہ سے رشک کرتی ہے۔ جوش ارنیسٹ نے کہاکہ وائیٹ ہاؤز کو اُمید ہے کہ امریکہ کے حلیف ممالک اور شراکت داروں کی معیشت عالمگیر سطح پر مستحکم ہوگی۔ ہم یقینا ایسا ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اُنھوں نے ترقی کا ایک زبردست ریکارڈ پیش کیا جو امریکہ عالمی معیشت کے مسلسل انحطاط اور مسلسل جدوجہد کے باوجود جاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT