Monday , November 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / چین ’فٹبال کا سوپر پاور‘ بننے کا خواہاں

چین ’فٹبال کا سوپر پاور‘ بننے کا خواہاں

بیجنگ ۔12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )چین نے  2050 تک ’فٹبال کی دنیا کا سوپر پاور‘ بننے کے لئے حکمت عملی کا اعلان کر دیا ہے۔ چین کا منصوبہ ہیکہ 2020 تک پانچ کروڑ بچوں اور نوجوان کھلاڑیوں کو فٹبال کے کھیل میں لایا جائے گا۔ منصوبے کے تحت 2020 تک کم سے کم 20 ہزار تربیتی مراکز اور 70 ہزار میدان تعمیر کئے جائیں گے۔ چین کو اولمپکس اور پیرا اولمپکس کھیلوں میں سبقت حاصل ہے۔ تاہم اِس نے صرف ایک مرتبہ 2002 میں فٹبال ورلڈکپ کے لئے کوالیفائی کیا تھا۔ چین کے صدر شی جن پنگ فٹبال کے دلدادہ ہیں اور اْنھوں کہا کہ وہ آنے والے 15 برسوں میں چین کو ورلڈ کپ جیتتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔اِس منصوبے کا اعلان چین کی فٹبال اسوسی ایشن کی جانب سے کیا گیا۔ منصوبے میں مختصر، درمیانے اور طویل مدتی اہداف کا تعین کیا گیا ہے، اِس کے علاوہ اِس میں 2030 تک ہر دس ہزار افراد کے لئے ایک فٹبال اسٹیڈیم تیار کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ چین کا منصوبہ ہے کہ 2020 تک پانچ کروڑ بچوں اور نوجوان کھلاڑیوں کو فٹبال کے کھیل میں لایا جائے گا۔ اِس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2050 تک چین کو ’فٹبال کا سوپرپاور‘ ہونا چاہئے تاکہ یہ ’بین الاقوامی فٹبال کی دنیا میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ منصوبے کے مطابق 2030 تک چین کے مردوں کی ٹیم ایشیا کی سب سے بہترین جبکہ خواتین کی ٹیم عالمی معیار کی ٹیم ہونی چاہئے۔ اِس وقت فیفا کی درجہ بندی کے مطابق 204 ممالک میں سے چینی مروں کی ٹیم کا 81 واں نمبر ہے اور یہ ہیٹی اور پاناما جیسے کئی چھوٹے ممالک سے بھی خاصی نیچے ہے۔ حالیہ چند برسوں میں فٹبال لیگ میں بدعنوانی کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد 2013 میں 33 کھلاڑیوں اور حکام پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT