Saturday , November 18 2017
Home / ہندوستان / چین ‘ مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کی راہداری بنا رہا ہے

چین ‘ مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کی راہداری بنا رہا ہے

پاکستان کو دی جانے والی مکمل امدادی بند کرنے پر زور۔ تحریک آزادی کے رکن دلشا بلوچ
نئی دہلی،17 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام ) بلوچ تحریک آزادی کے کارکن مزداک دلشاد بلوچ نے کہا ہے کہ چین پاک مقبوضہ کشمیر میں کوئی اقتصادی راہ داری نہیں بنا رہا بلکہ چین ۔ پاکستان دہشت گردی راہداری بنارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حکومت چین کی مدد سے بلوچستان میں ‘بڑے پیمانہ پر قتل عام’ کر رہی ہے ۔مزداک نے آر ایس ایس کے ترجمان آرگنائزر ویکلی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ معاشی راہداری درحقیقت دہشت گردانہ راہداری ہے کیونکہ یہ دونوں ملک بلوچ لوگوں کو ہراساں کر رہے ہیں اور قتل کر رہے ہیں ان کے گاؤں جلا رہے ہیں۔ لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال رہے ہیں ان کے وسائل لوٹ رہے ہیں ۔انہوں نے کہا ‘یہ چینی ہر روز تقریباً 16 کلو سونا ، متعدد ٹرک بھر کر تانبہ، لوہا، کوئلہ اور بہت کچھ کھود کر لے جاتے ہیں۔پاکستانی فوجی کو دنیا کی سب سے بڑا دہشت گرد بتاتے ہوئے بلوچ کارکن نے کہا کہ تمام ممالک کو پاکستان کی فوجی اور مالی امداد بند کردینی چاہیے کیونکہ اس کا استعمال دہشت گردانہ سرگرمیوں اور بلوچ افراد کے قتل عام کیلئے کیا جارہا ہے ۔پاک مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے لانچ پیڈ وں کو تبناہ کرنے ہندوستان کے سرجیکل حملوں کی مکمل حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے درست فیصلہ کیا ہے ۔مزداک نے کہا کہ کشمیر ہندستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور پاکستان کیلئے پاک مقبوضہ کشمیر گلگت بلستان میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ پاکستان گلگت بلستان کے وسائل استعمال کر رہا ہے اور انہیں چین کو فروخت کر رہا ہے ۔ ہم ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہندوستان کو نہتے اور بے یارو مدد گار لوگوں کے دفاع کیلئے مزید اقدام کرنے چاہئیں۔مسٹر بلوچ نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کی جدوجہد آزادی کشمیر کے علیحدگی پسندوں کی لڑائی سے یکسر مختلف ہے ۔ بلوچستان ایک آزاد ملک تھا اور یہ کوئی نوابی ریاست نہیں تھی اور یہ بھی کبھی ہندوستان کا حصہ تھی۔ یہ 1410 سے آزاد ملک رہا ہے جس پر پاکستان نے 1948 میں قبضہ کرلیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد منفرد ہے بعض لوگ دیگر تحریکوں کا استعمال کرنا چاہتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ1947 و 1948 کے درمیان مسٹر غوث بخش باروزئی اس وقت جو آزاد بلوچستان کے گورنر تھے ، ہندوستان آئے تھے اور وزیر اعظم جواہر لال نہرو سے مدد مانگی تھی ۔ بعض اسباب سے نہرو اور ہندوستانی قیادت نے مدد سے انکار کردیا چند ماہ کے بعد پاکستان نے ہم پر حملہ کردیا اور ہمارے بادشاہ اور ملکہ سے بندوق کی نوک پر انضمام کے کاغذات پر دستخط کرالئے ۔70 سال سے بلوچ عوام آزادی کیلئے لڑ رہے ہیں ہر مرتبہ انہیں کچل دیا جاتا ہے ۔ چند ماہ قبل بلوچ لیڈر نائلہ قادری بلوچ نے ہندوستان سے مدد لینے کا فیصلہ کیا اور مودی حکومت سے رابطہ کیا ۔

TOPPOPULARRECENT