Monday , August 20 2018
Home / دنیا / چین میں صدر کے عہدہ کو غیرمعینہ مدت میں تبدیل کرنے این پی سی کا اہم اجلاس

چین میں صدر کے عہدہ کو غیرمعینہ مدت میں تبدیل کرنے این پی سی کا اہم اجلاس

بیجنگ ۔ 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) چینی پارلیمنٹ نے آج اپنے سالانہ سیشن کا آغاز کیا جہاں صدر ژی جن پنگ کی دو صدارتی میعاد کے طریقہ کار کو بالکل ختم کردینے اور چینی دستور میں صدر کے نظریات و افکار شامل کرنے کے متنازعہ فیصلے کئے جاسکتے ہیں۔ دو ہفتہ تک چلنے والے اس اجلاس میں ملک بھر سے تقربباً 3000 لیجسلیٹرس چین کی نیشنل پیوپل کانگریس (NPC) میں شرکت کریں گے۔ اجلاس سے قبل حکمراں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (CPC) نے صدر اور نائب صدر کے عہدوں کو دو میعادوں تک محدود رکھنے کے طریقہ کار کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ یاد رہیکہ اس طریقہ کار کو متعارف کرنے کا مقصد ملک میں پارٹی کے بانی ماؤزے ڈونگ کی طرز پر ڈکٹیٹر شپ کے قیام کی حوصلہ شکنی کرنا ہے اور صرف ایک ہی پارٹی والے اس ملک میں مجموعی قیادت کو یقینی بنایا جاسکے گا۔ 64 سالہ ژی جن پنگ اور وزیراعظم لی کیگیانگ اور دیگر قائدین نے آج این پی سی کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔ سی پی سی کی جانب سے کسی بھی تجویز کو منظوری دینے والی پارلیمنٹ کو اب تک ’’ربراسٹامپ‘‘ پارلیمنٹ سے تعبیر کیا جاتا تھا تاہم اب اس افتتاحی سیشن میں ایک دستوری ترمیم کے ذریعہ ژی جن پنگ کو غیرمعینہ مدت تک ملک کے صدر کے عہدہ پر فائز رہنے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ ژی جن پنگ کو چین کا ایک طاقتور اور بارسوخ قائد تصور کیا جاتا ہے جبکہ موصوف پارٹی اور فوج کے بھی سربراہ ہیں۔ ژی جن پنگ کیلئے غیرمعینہ مدت تک صدارتی عہدہ پر بنے رہنے کی تجویز نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جبکہ خود چین میں بھی اس تجویز سے متعلق عوام کی مختلف رائے ہے۔ کچھ لوگوں نے تو یہ سوالات بھی پوچھنے شروع کردیئے ہیں کہ کیا چین ایک بار پھر ’’فرد واحد کی حکمرانی‘‘ کے دور میں جارہا ہے جبکہ چین کے دستور میں بھی ژی جن پنگ کے افکار کو شامل کیا جائے گا جس کا یقینی مطلب یہ ہوگا کہ ملک کے دستور میں جن پنگ کا نام بھی شامل ہوگا جو انہیں چین کے ماضی کے طاقتور حکمرانوں ماؤ اور ڈینگ ژیاؤ پنگ کی صف میں کھڑا کردے گا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق اس اجلاس میں ترقی کو بھی سائنٹفک انداز میں ستوریت عطا کی جائے گی۔ اب اگر ہم چین کا دوسرا رخ دیکھیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ دفاعی بجٹ پر 8.1 فیصد اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے جو جاریہ سال مجموعی طور پر 175 بلین ڈالرس ہوگا۔ چین اپنی فوج کو عصری بنانے میں کوئی کسر اٹھا رکھنا نہیں چاہتا۔ یاد رہیکہ صرف گذشتہ سال ہی چین نے اپنے دفاعی بجٹ میں 150.5 بلین ڈالرس تک اضافہ کردیا تھا جو امریکہ کے بعد دوسرا ایسا ملک ہے جس کا دفاعی بجٹ سب سے زیادہ ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ چینی دفاعی بجٹ میں جاریہ سال 8.1 فیصد کا جو اضافہ کیا گیا ہے وہ ہندوستان کے بجٹ سے تین گنا زیادہ ہے جو صرف 46 بلین ڈالرس ہے حالانکہ چین نے اپنے دفاعی بجٹ کو 150.5 بلین امریکی ڈالرس کردینے کا اعلان گذشتہ سال ہی کیا تھا تاہم مبصرین کا کہنا ہیکہ حقیقت میں دفاعی بجٹ 150.5 بلین ڈالرس سے بھی زیادہ ہے جبکہ مزید دو طیارہ بردار جہاز بھی تیار کئے جارہے ہیں جبکہ ایک طیارہ بردار جہاز پہلے سے ہی آپریشن انجام دے رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ نئے لڑاکا طیارے بشمول اسٹیلتھ فائٹر J-20 بھی آپریشن میں ہے۔ دوسری طرف چینی بحریہ میں بھی توسیع کرتے ہوئے فلوٹیلا شپس بھی سمندری علاقوں میں گشت کرتے رہتے ہیں جس سے چین کے دبدبہ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ چین کے دفاعی بجٹ نے جی ڈی پی اور نیشنل فسکل اخراجات کا کچھ ہی حصہ حاصل کیا ہے جبکہ دیگر ممالک میں اس کا تناسب زیادہ ہے۔ این پی سی کے ترجمان ژانگ یسوئی نے یہ بات بتائی۔

TOPPOPULARRECENT