Saturday , September 22 2018
Home / دنیا / چین میں ژنجیانگ کے 8 عسکریت پسندوں کو سزائے موت

چین میں ژنجیانگ کے 8 عسکریت پسندوں کو سزائے موت

بیجنگ۔ 24؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ چین نے شورش زدہ صوبہ ژنجیانگ کے 8 عسکریت پسندوں کو تیانمن چوک میں گزشتہ سال خودکش حملہ کی سازش تیار کرنے کے جرم میں سزائے موت دے دی۔ اس حملہ میں کم از کم 3 افراد ہلاک اور 39 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ سزائے موت پر عمل آوری سپریم پیپلز کورٹ کے سزائے موت کی توثیق کرنے کے بعد کی گئی۔ سرکاری خبر رساں ادارہ ژنہوا کی

بیجنگ۔ 24؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ چین نے شورش زدہ صوبہ ژنجیانگ کے 8 عسکریت پسندوں کو تیانمن چوک میں گزشتہ سال خودکش حملہ کی سازش تیار کرنے کے جرم میں سزائے موت دے دی۔ اس حملہ میں کم از کم 3 افراد ہلاک اور 39 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ سزائے موت پر عمل آوری سپریم پیپلز کورٹ کے سزائے موت کی توثیق کرنے کے بعد کی گئی۔ سرکاری خبر رساں ادارہ ژنہوا کی خبر کے بموجب ان کے جرائم میں پانچ مقدمے شامل ہیں جن میں تیانمن چوک کے افسانوی ممنوعہ شہر میں دہشت گرد حملہ، اکسو میں ملازمین پولیس سے بندوقیں چھین لینا، دھماکو مادوں کی غیر قانونی تیاری اور کاشغر میں شہریوں کا قتل شامل ہیں۔ ان خاطیوں نے مبینہ طور پر ایک دہشت گرد تنظیم قائم کی تھی جو ہوتان میں چوکی پر اندھادھند فائرنگ اور سرکاری عہدیداروں کے قتل میں ملوث رہے تھے۔ سزائے موت دینے کی خبر سرکاری ذرائع ابلاغ نے کل رات دیر گئے جاری کی اور ٹی وی پر مقدمہ کی کارروائی دکھائی گئی۔

ژنجیانگ میں ایغور مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہ علاقہ شورش زدہ ہے، کیونکہ دیگر صوبوں سے ہان نوآبادکاروں کے اس علاقہ میں قیام کے بعد ان پر حملوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ حملوں کا اہتمام مبینہ طور پر مشرقی ترکستان، اسلامی تحریک کرتی ہے جو القاعدہ کی حمایت یافتہ تنظیم ہے۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور افغانستان کی سرحد سے متصل اس علاقہ میں گزشتہ سال انتہائی وحشیانہ حملے کئے گئے تھے جن میں عسکریت پسندوں نے پُرہجوم مقامات جیسے ریلوے اسٹیشنس پر چاقوؤں اور خنجروں سے منتظر مسافرین پر حملے کئے تھے۔ پہلا خودکش حملہ ژنجیانگ سے باہر کیا گیا تھا۔ ممنوعہ شہر کے باب الداخلہ پر ایک گاڑی کو نذرآتش کردیا گیا تھا۔ خودکش حملہ میں 3 افراد ہلاک اور 39 زخمی ہوئے تھے۔ تینوں مجرموں کو آج سزائے موت دے دی گئی۔

TOPPOPULARRECENT