Thursday , November 23 2017
Home / دنیا / چین میں 25 برس کے دوران سست ترین معاشی ترقی

چین میں 25 برس کے دوران سست ترین معاشی ترقی

چین کا اپنی کرنسی یوان کی قدر میں کمی کرنے کا اعلان، سرمایہ کاروں کو تشویش لاحق
بیجنگ ۔ 19 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) چین میں حکام کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق 2015 میں معاشی ترقی کی شرح 6.9 فیصد رہی جو کہ 25 برس میں سب سے کم شرحِ ترقی ہے۔ دنیا کی اس دوسری سب سے بڑی معیشت کی شرحِ ترقی 2014 میں 7.3 فیصد تھی اور 2015 میں ’تقریباً 7% ‘ کا ہدف مقرر کیاگیا تھا۔ چینی وزیر اعظم لی کیچیانگ نے کہا ہے کہ ترقی کی شرح میں کمی آنا اس وقت تک درست ہے جب تک اس کا اثر روزگار کے نئے مواقع پر نہیں پڑتا۔ انھوں نے کہا ہے کہ جب تک ملک میں طلب کے تناسب سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں ترقی کی شرح میں کمی قابلِ قبول ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین میں اگر موجودہ شرحِ ترقی میں اعشاریہ ایک فیصد کی بھی مزید کمی ہوتی ہے تو یہ مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ حالیہ چند برسوں میں چین کی کوشش رہی ہے کہ اس کی معیشت میں بڑا حصہ برآمدات اور سرمایہ کاری کی خدمات کا ہو۔ تاہم ملکی معیشت کی سست روی کے بارے میں خدشات کی وجہ سے چین کے مرکزی بینک کو نومبر 2014 سے اب تک شرحِ سود میں چھ مرتبہ کمی کرنی پڑی ہے۔ چینی بازارِ حصص میں حالیہ مندی نے بھی دنیا بھر کے بازارِ حصص میں کھلبلی مچا دی ہے

جہاں اب چین کی معاشی مضبوطی کے بارے میں خدشات سر اٹھانے لگے ہیں۔ خیال رہے کہ جاریہ برس کے پہلے ہی ہفتے میں چینی بازار حصص میں 7% تک گراوٹ کے بعد حصص کی خرید و فروخت کا عمل معطل کرنا پڑا تھا۔  چین کے مرکزی بینک کی جانب سے ملکی کرنسی یوان کی قدر میں کمی کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بعد سرمایہ کار پریشان ہیں۔ ادھر چین کی سکیورٹی ریگولیٹری کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ بڑے حصص بردار 9 جنوری سے تین ماہ تک کمپنی کے حصص ایک فیصد سے زیادہ نہیں فروخت کر سکتے۔ چین نے اپنی کرنسی یوان کی قدر میں جو کمی کرنے کا اعلان کیا ہے اس سے سرمایہ کاروں میں اس بات کا خوف ہے کہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت توقع سے زیادہ سست روی کا شکار ہوسکتی ہے اور اس سے علاقے میں کرنسی کی قدر انحطاط پذیر ہوسکتی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT