Friday , November 24 2017
Home / دنیا / چین میں 400 سے زائد جعلی اسکولس، کالجس اور یونیورسٹیاں

چین میں 400 سے زائد جعلی اسکولس، کالجس اور یونیورسٹیاں

بیجنگ ۔ 24 مئی (سیاست ڈاٹ کام) دنیا میں آج کل تعلیمی شعبہ میں جتنی غیردیانتداری کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اتنا شاید ہی کسی دیگر شعبہ میں ہو اور حیرت انگیز بات یہ ہیکہ اس معاملہ میں بڑے بڑے ممالک کا نام بھی لیا جارہا ہے۔ چین میں ایسی جعلی یونیورسٹیوں کی تعداد 400 تک پہنچ چکی ہے۔ ہتھکنڈہ یہ استعمال کیا جاتا ہے کہ مشہور و معروف یونیورسٹیوں کے ناموں میں معمولی تبدیلی کرتے ہوئے داخلہ کے متمنی طلباء کو الجھن میں مبتلاء کردیا جاتا ہے۔ sdaxue.com ویب سائیٹ پر جعلی اسکولس، کالجس اور یونیورسٹیوں کی پوری تفصیلات فراہم کی گئی ہیں جس سے طلباء کو ہوشیار کرتے ہوئے انہیں ان کی پسند کی یونیورسٹیوں میں داخلہ کیلئے مکمل تعاون کیا جاتا ہے۔ ویب سائیٹ میں ایسی 73 یونیورسٹیوں کا تذکرہ ہے جہاں کا ڈپلوما جعلی اور غیر ایکریڈیٹیڈ ہوتا ہے۔ مذکورہ ویب سائیٹ 2013ء سے جعلی یونیورسٹیوں کے ناموں کا افشاء کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ریاستی خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے یہ بات بتائی۔ فہرست کے مطابق بیجنگ میں 23 جعلی اسکولس کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ بیجنگ ایک ایسا شہر ہے جہاں ملک کی چند اعلیٰ درجہ کی یونیورسٹیاں موجود ہیں۔ شینڈاگ کا نمبر دوسرا ہے جہاں آٹھ جعلی کالجس ہیں اور سات جعلی کالجس کے ساتھ شنگھائی تیسرے نمبر پر ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ ویب سائیٹ کے مطابق جن 73 جعلی یونیورسٹیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے ان میں سے 66 تو ایسی ہی وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کردہ کالجس کی فہرست میں شامل تک نہیں ہیں۔ بیجنگ فارمل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا وجود تک نہیں ہے۔
ایک دیگر کالج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس 16,500 گریجویٹس اور بہترین تدریسی عملہ ہے لیکن رپورٹرس تلاش بسیار کے بعد بھی اس کالج کا پتہ نہیں ڈھونڈ پائے۔

TOPPOPULARRECENT