Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / چین و تائیوان کے صدور کی سنگاپور میں تاریخی ملاقات ‘ پہلا مصافحہ

چین و تائیوان کے صدور کی سنگاپور میں تاریخی ملاقات ‘ پہلا مصافحہ

ہم ایک خاندان ہیں۔ کوئی طاقت ہمیں علیحدہ نہیں کرسکتی ۔ ژی جن پنگ کا ریمارک ۔ تائیوان میں مخالف مظاہرے
سنگاپور 7 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) چین اور تائیوان کے قائدین نے آج ایک تاریخی ملاقات میں پہلی مرتبہ مصافحہ کیا ۔ دونوں ملکوں میں گذشتہ طویل عرصہ سے سرد جنگ رہی ہے اور یہ ایک دوسرے کے دشمن رہے ہیں۔ تائیوان نے 66 سال قبل چین سے علیحدگی اختیار کرلی تھی ۔ چین کے صدر ژی جن پنگ اور تائیوان کے صدر ما ینگ ۔ جئیو نے جنوب مشرقی ایشیائی شہر سنگاپور جیسے تیسرے مقام پر ملاقات کی ۔ دونوں نے ہوٹل کی بالکنی میں ایک دوسرے کی سمت آگے بڑھتے ہوئے مصافحہ کیا ۔ جب یہ دونوں قائدین نے ایک منٹ سے زیادہ وقت تک کیلئے مصافحہ کیا تو ان کے شہروں پر گہری مسکراہٹ تھی ۔ ان دونوں قائدین نے وہاں موجود فوٹو گرافرس کو تصاویر بنانے کا موقع بھی فراہم کیا ۔ اس موقع پر کوئی قومی پرچم نہیں رکھے گئے ۔ چین ہمیشہ ہی تائیوان کی سالمیت یا اس کی حکومت کی منطقی حیثیت کو قبول کرنے سے انکار کیا ہوا ہے ۔ بند کمرہ میں ملاقات سے قبل صحافیوں کے سامنے اپنے افتتاحی ریمارکس میں چین کے صدر نے تائیوان کو ضم کرنے کے اپنے ملک کے دیرینہ عزم کا ان الفاظ میں اظہار کیا کہ ہم ایک خاندان ہیں اور کوئی طاقت ہمیں الگ نہیں کرسکتی ۔ تائیوان کے صدر نے کہا کہ دونوں فریقین کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کی اقدار اور انداز زندگی کا احترام کریں۔

1949 میں جب چین سے تائیوان نے علیحدگی اختیار کرلی تو دونوں ہی فریقین نے ایک دوسرے کو ضم کرلینے کا عزم ظاہر کیا تھا ۔ کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں چین ابھی بھی یہ مطالبہ کرتا ہے کہ تائیوان بالآخر چین کے ساتھ ضم ہوجائے ۔ تائیوان کے عوام کی اکثریت چاہتی ہے کہ وہ اپنی علیحدگی شناخت برقرار رکھیں جو گذشتہ چھ دہوں سے جاری ہے ۔ تائیوان میں صدر ما ینگ جئیو کے مخالفین اس ملاقات کی شدت سے مخالفت کرتے رہے ہیں ۔ جب تائیوان کے صدر سنگاپور کے دورہ پر روانہ ہو رہے تھے اندرون ملک کئی احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے تھے ۔ تائیوانی صدر کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ان کی چینی صدر سے ملاقات تائیوان پر چین کی بالادستی کو بحال کرنے کا راستہ ہموار کرسکتی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے سربراہان یہ کوشش کر رہے ہیںکہ گذشتہ چھ دہوں سے جاری اختلافات کو ختم کرنے کی سمت انہوں نے پیشرفت کی تھی ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ ملاقات محض ایک ساتھ آنے کی علامتی کوشش ہے اورا س کے کوئی خاطر خواہ مثبت نتائج برآمد نہیں ہونگے ۔ دونوں ہی فریقین نے پہلے ہی یہ واضح کردیا تھا کہ اس ملاقات کے موقع کوئی معاہدات پر دستخط نہیں کئے جائیں گے اور نہ کوئی مشترکہ بیان جا ری کیا جائیگا ۔ کہا گیا ہے کہ تائیوان میں اس ملاقات کے خلاف احتجاج کے دوران تین افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے ۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ تائیوان میں صدارتی دفتر کے باہر جمع ہوکر احتجاج کرینگے ۔

TOPPOPULARRECENT