Friday , June 22 2018
Home / دنیا / چین کا نیپال کیساتھ ریل نیٹ ورک کی تعمیر کا منصوبہ

چین کا نیپال کیساتھ ریل نیٹ ورک کی تعمیر کا منصوبہ

بیجنگ 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) چین اب تبت اور نیپال کے درمیان 540 کیلو میٹر طویل تیز رفتار ٹرین رابطہ کی تعمیر کا منصوبہ بنارہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ طویل راستہ دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کے نیچے سرنگ تعمیر کرکے تیار کیا جائے گا۔ چین کی جانب سے یہ ایک ایسا قدم ہوگا جو یقینا ہندوستان کے لئے بھی تشویش کا باعث بن سکتا ہے ک

بیجنگ 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) چین اب تبت اور نیپال کے درمیان 540 کیلو میٹر طویل تیز رفتار ٹرین رابطہ کی تعمیر کا منصوبہ بنارہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ طویل راستہ دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کے نیچے سرنگ تعمیر کرکے تیار کیا جائے گا۔ چین کی جانب سے یہ ایک ایسا قدم ہوگا جو یقینا ہندوستان کے لئے بھی تشویش کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ اس طرح پڑوسی ملک اپنا اثر و رسوخ دکھانے کا خواہاں معلوم ہوتا ہے۔ دریں اثناء سرکاری اخبار چائنا ڈیلی نے بھی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ چین موجود قنگھائی ۔ تبت ریلوے لائن کو چین ۔ نیپال سرحد تک توسیع دینا چاہتا ہے جو براہ تبت گزرے گی اور اس طرح باہمی تجارت اور سیاحت میں زبردست اضافہ ہوگا کیونکہ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان کوئی ریل رابطہ نہیں ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ مجوزہ ریلوے لائن کی تکمیل 2020 ء تک ہوجائے گی البتہ مصارف کے بارے میں کوئی تفصیلات پیش نہیں کی گئیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ 1956 کیلو میٹر قنگھائی ۔ تبت ریلوے لائن چین کو تبت کے دارالخلافہ ہماسہ اور دیگر مقامات سے جوڑتی ہے۔ چین کے ایک ریل ماہر وانگ منگیشو نے انتباہ دیا کہ پراجکٹ کا آغاز ہونے کے بعد انجینئرس کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ منگیشو چائنیز اکیڈمی آف انجینئرنگ سے وابستہ ہیں۔

اُنھوں نے کہاکہ اگر اس تجویز پر عمل آوری ہوئی اور اسے حقیقت کا روپ دیا گیا تو چین اور نیپال کے درمیان باہمی تجارت خصوصی طور پر زرعی شعبہ میں زبردست ترقی ہوگی اور ساتھ ہی ساتھ سیاحت اور عوام سے عوام کا رابطہ بھی مستحکم ہوگا اور یہ منصوبہ کچھ اس نوعیت کا ہے کہ اس کے لئے ماؤنٹ ایورسٹ کے نیچے سے سرنگ نکالنی پڑے گی۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قبل ازیں چین نے نیپال کے علاوہ اپنی تبتین ریل نیٹ ورک کو بھوٹان اور ہندوستان تک توسیع دینے کا بھی اعلان کیا تھا۔ چین نے حال ہی میں نیپال کے لئے اپنی سالانہ امداد کو 128 ملین ڈالرس کردیا ہے جبکہ قبل ازیں صرف 24 ملین ڈالرس ہی دیئے جاتے تھے۔

TOPPOPULARRECENT