Wednesday , July 18 2018
Home / دنیا / چین کی آبادی 2050 ء تک ہندکے مقابل 65 فیصد ہونے کا اندیشہ

چین کی آبادی 2050 ء تک ہندکے مقابل 65 فیصد ہونے کا اندیشہ

کمتر شرح پیدائش بنیادی سبب ۔ چین کو دو بچے کی پالیسی بھی ختم کرنا ہوگا ۔ امریکہ میں مقیم چینی ماہر یی فوژیان کے تاثرات

بیجنگ ۔10 جولائی ۔( سیاست ڈاٹ کام ) ایک چینی ماہر نے چین کی متنازعہ فیملی پلاننگ پالیسی ختم کردینے پر زور دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی آبادی حکومت کی جانب سے ایک بچہ کی پالیسی چلانے کے سبب 2050ء تک ہندوستان کی آبادی کا محض 65 فیصد حصہ ہوجائیگی۔ چین نے اپنی کئی دہوں سے جاری ایک بچہ پالیسی کو 2016 ء میں ختم کردیا اور جوڑوں کو دو بچے رکھنے کی اجازت دیدی کیونکہ معمر لوگوں کی آبادی نوجوان افراد کی گھٹتی تعداد کے سبب بڑھتی جارہی ہے ۔ چین کے پاس ختم 2016 ء تک 60 سال یا زائد عمر والے افراد کی تعداد 230.8 ملین ہوگئی تھی جو ملک کی جملہ آبادی کا 16.7 فیصد ہوتا ہے ، یہ اعداد و شمار وزارت شہری اُمور نے اگسٹ 2017 ء میں جاری کئے تھے ۔ بین الاقوامی معیارات کو دیکھیں تو کسی بھی ملک یا خطہ کو اُس وقت ڈھلتا سماج سمجھا جاتا ہے جب 60 سال یا زائد عمر والے لوگوں کی تعداد وہاں کی جملہ آبادی کا کم از کم 10 فیصد حصہ ہوجاتی ہے ۔ امریکہ میں مقیم ریسرچر یی فوژیان نے جو یونیورسٹی آف وسکانسن ۔ میڈیسن سے وابستہ ہیں ، اُنھوں نے سرکاری زیرانتظام گلوب ٹائمس کو بتایا کہ چین کمتر شرح پیدائش کے جال میں پھنس رہا ہے اور اس کی ڈھلتی عمر والی آبادی معاشی ترقی پر اثرانداز ہوگی ۔ چین کو اپنے سماجی ڈھانچہ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کرنے چاہئیں اور پہلا قدم اس پالیسی کو ترک کرنا ہونا چاہئے ۔ اگر چین اپنے پاس شرح پیدائش کو 2050 ء اور 2100 ء تک 1.2 فیصد برقرار رکھتا ہے تو اس کی آبادی ہندوستان کی آبادی کا ترتیب وار 65 اور 32 فیصد ہوجائیگی ۔ چین نے اپنی ایک بچہ فیملی پلاننگ پالیسی کو 1979ء میں شروع کیا تھا اور اسے جنوری 2016 ء میں دو بچوں کی پالیسی سے بدل دیا ۔ چینی عہدیداروں کا تخمینہ ہے کہ 1979 ء میں ایک بچہ کی پالیسی شروع کرنے سے 400 ملین پیدائشوں کو روکا جاسکا ہے ۔ فوژیان کا استدلال ہے کہ فیملی پلاننگ پالیسی نے ملک کو 2005 ء کے بجائے بہ لحاظ 2018 ء 400 ملین پیدائشوں کو گھٹانے میں مدد کی ہے ۔ اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام کے ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس (HDI) کا حوالہ دیتے ہوئے فوژیان نے کہاکہ اگر چین نے اپنی فیملی پلاننگ پالیسی پر عملدرآمد نہیں کیا ہوتا تو چین کا شرح پیدائش بہرحال اس کی معاشی ترقی کے ساتھ گھٹ گیا ہوتا ۔ یہ اشاریہ تین کسوٹیوں متوقع حیات ، تعلیم اور قوت خرید کو ملحوظ رکھتے ہوئے کام کرتا ہے ۔ فوژیان کا دعویٰ ہے کہ یہ اشاریہ شرحِ پیدائش کے معکوس تناسب میں ہے ۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے کبھی ایسی پالیسی پر عملدرآمد نہیں کیا لیکن اُس کی پاس شرح پیدائش 1970 ء میں 5.6 سے گھٹ کر 2017 ء میں 2.18 ہوئی ہے ۔ چین کا HDI ہندوستان کے مقابل کافی زیادہ ہے ۔ اگر چین نے اس پالیسی پر عملدرآمد نہیں کیا ہوتا تو شرح پیدائش میں کمی ہندوستان کی شرح پیدائش میں کمی سے کہیں تیز تر ہوتی ۔ رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ چین فیملی پلاننگ پالیسی کو بالکلیہ ختم کردینے کے منصوبے بنارہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT