Saturday , November 25 2017
Home / دنیا / چین کی پیپلزلبریشن آرمی کی تعداد میں زبردست کٹوتی

چین کی پیپلزلبریشن آرمی کی تعداد میں زبردست کٹوتی

2.3 ملین سے ایک ملین ، جدید ٹیکنالوجی پر زائد توجہ ، بحریہ ، میزائل اور راکٹ فورس میں اضافہ

بیجنگ۔ 12 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) آج جبکہ دنیا کے کئی ممالک نیوکلیئر توانائی کے حامل ملک کہلانا پسند کرتے ہیں، وہیں ایشیا کے طاقتور ترین ملک چین نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے، جس نے شاید دیگر ممالک کے لئے ایک مثال قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بات نہیں ہے کہ چین نیوکلیئر توانائی کے حصول میں ایقان نہیں رکھتا لیکن دفاعی اخراجات میں بے تحاشہ اضافہ پر بھی اب چینی حکام نظرثانی کررہے ہیں جن کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ چین نے اپنی مشہور زمانہ پیپلز لبریشن آرمی جس کی تعداد 2.3 ملین ہے، کی تعداد گھٹاکر ایک ملین سے بھی کم کرنے کا فیصلہ کردیا ہے جسے کسی بھی ملک کی دفاعی تاریخ میں فوج کی اتنی زیادہ تعداد میں کٹوتی کی ایک نئی تاریخ سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف چینی حکام کا کہنا ہے کہ اب زمین اور دوبدو جنگ لڑنے کے زمانے نہیں رہے لہذا چین بھی اب تمام تر توجہ بحریہ اور اسٹریٹیجک میزائلس پر مرکوز رکھنا چاہتا ہے۔ چینی فوج کے سرکاری اخبار ’’ پی ایل اے ڈیلی‘‘ کی اطلاع کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی کو نئی جہت دینے کے لئے فوجیوں کی تعداد میں زبردست کٹوتی کی گئی ہے تاکہ دیگر خدمات پر زائد توجہ دی جاسکے جن میں بحریہ اور میزائلس قابل ذکر ہیں جسے اخبار میں شائع ہوئے ایک مضمون کے مطابق ’’اسٹرکچورل اصلاحات‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آج دنیا کے ایسے کئی ممالک ہیں جہاں زمینی افواج کی تعداد زیادہ نہیں ہے کیونکہ اب وہ زمانے نہیں رہے کہ میدان جنگ میں دوبدو لڑائی کرتے ہوئے فن سپہ گری کا لوہا منوایا جائے۔ اگر آج کوئی زبردست نشانہ باز (بندوق)، زبردست تلوار باز یا تیر انداز ہے تو اس کی صلاحیتیں اپنی جگہ لیکن میدان جنگ میں اب ان کی کوئی ضرورت نہیں رہی ہے۔ اگر وہ میدان جنگ میں اپنے تمام حربوں اور ہتھیاروں کے ساتھ موجود بھی ہیں تو محض ایک بم دھماکہ انہیں منٹوں میں ڈھیر کردیتا ہے اور ان کی صلاحیتیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ فضائی حملوں میں آج اضافہ اس لئے دیکھا جارہا ہے کہ اس سے دشمن کے زیادہ سے زیادہ علاقوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

ڈرون طیارہ اس جانب تازہ ترین ایجاد ہیں جن کے لئے پائیلٹس کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان طیاروں کو کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں، ان کا کنٹرول بھی محفوظ ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ ایک دیگر رپورٹ کے مطابق چین نے قبل ازیں اپنی تمام تر توجہ زمینی جنگ اور ہوم لینڈ ڈیفنس کی جانب مرکوز کر رکھی تھی تاہم اب ان میں زبردست تبدیلیاں عمل میں لائی جائیں گی۔ چین کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہورہا ہے کہ کارکرد پی ایل اے آرمی کی تعداد میں قابل لحاظ تخفیف کی جارہی ہے، البتہ پی ایل اے بحریہ، پی ایل اے اسٹریٹیجک سپورٹ فورس اور پی ایل اے راکٹ فورس میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ پی ایل اے ایرفورس کی کارکرد ملازمین کی تعداد جوں کی توں برقرار رکھی جائے گی۔ وزارت دفاع کے ڈیٹا کے مطابق پی ایل اے آرمی کی 2013ء میں جنگجو ٹروپ کی تعداد 8.50 لاکھ تھی، البتہ پی ایل اے آرمی کی قطعی تعداد کا سرکاری طور پر کبھی انکشاف نہیں کیا گیا۔ قبل ازیں صدر چین ژی جن پنگ نے بھی اعلان کیا تھا کہ پی ایل اے آرمی 3 لاکھ فوجیوں کی تخفیف کی جائے گی۔ دوسری طرف سرکاری اخبار ’’گلوبل ٹائمز‘‘ کے مطابق کہ ملک کے 2015ء میں 3 لاکھ فوجیوں کی کٹوتی کے اعلان سے قبل اس کی تعداد 2.3 ملین تھی۔ شمالی کوریا نے یکے بعد دیگرے کئی میزائلس ٹسٹ کئے جبکہ حالیہ دنوں میں اس نے جس بالسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے، اس نے صرف چین بلکہ امریکہ کی نیندیں بھی حرام کردی ہیں۔ چین کا یہ قدم شاید امریکہ کیلئے بھی مثال بن جائے کیونکہ اب کوئی بھی ملک افرادی قوت پر انحصار نہ کرتے ہوئے ٹیکنالوجی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کا خواہاں ہے، چاہے وہ ایشیا کی دو بڑی طاقتیں ہندوستان اور چین ہوں یا برصغیر میں پاکستان، ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہ ہو۔ ٹیکنالوجی سے استفادہ بھی صرف ’’ریس‘‘ میں موجودگی کا احساس دلانے کے مترادف ہے، ورنہ جنگوں سے زیادہ آج خانہ جنگیوں کا زور ہے۔ شام، لیبیا، عراق اور یمن اس کی زندہ مثالیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT