Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر کے تبادلہ پر مختلف اداروں میں مایوسی

ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر کے تبادلہ پر مختلف اداروں میں مایوسی

حکومت کے اچانک فیصلہ پر ملازمین و عہدیداران حیرت زدہ ، اسکیمات پر عمل متاثر ہونے کا امکان
حیدرآباد۔/4مارچ، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کے ڈائرکٹر جلال الدین اکبر کے اچانک تبادلہ نے محکمہ کے مختلف اداروں میں مایوسی کی لہر پیدا کردی ہے۔ اقلیتی اداروں کے عہدیدار اور ملازمین حکومت کے اس اچانک فیصلہ سے حیرت میں ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ جلال الدین اکبر کے تبادلہ سے کئی اہم اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری کی رفتار سُست ہوجائے گی۔ اخبارات میں ایم جے اکبر کے تبادلہ کی خبر غیر سرکاری تنظیموں کیلئے صدمہ کا باعث رہی جو حکومت کی فلاحی اسکیمات پر کامیاب عمل آوری میں اہم رول ادا کررہے تھے اور ایم جے اکبر کی مساعی نے کئی اہم رضاکارانہ تنظیموں کو اقلیتی بہبود سے جوڑ دیا تھا۔ حج ہاوز میں مختلف کاموں کے سلسلہ میں آنے والے اقلیتی طبقہ کے افراد نے بھی حکومت کے اس فیصلہ پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان کا احساس ہے کہ ایم جے اکبر کا تبادلہ منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے تاکہ بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں کی راہ میں رکاوٹ بننے والی شخصیت کو محکمہ سے ہٹایا جائے اور اپنا راج قائم کیا جائے۔ ایم جے اکبر کے تبادلہ سے محکمہ اقلیتی بہبود پر ایسے افراد کا تسلط ہوچکا ہے جو اقلیتوں کے مفادات کے خلاف فیصلوں کیلئے جانے جاتے ہیں۔ کئی رضاکارانہ تنظیموں نے اس فیصلہ کے خلاف چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کیا ہے۔دوسری طرف مخالف ایم جے اکبر کیمپ میں خوشی کا ماحول دیکھا گیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی من مانی اور قواعد کی خلاف ورزی پر ایم جے اکبر نے بحیثیت ڈائرکٹر اعتراض جتایا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود سے قربت رکھنے والے افراد نے ایم جے اکبر کے تبادلہ پر ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی اور وہ اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ جلد سے جلد ان سے ذمہ داری حاصل کرلی جائے۔ ایم جے اکبر کے تبادلہ کے بعد اہم مسئلہ یہ ہے کہ ڈائرکٹر کے عہدہ کی زائد ذمہ داری کس کو دی جائے گی۔ الغرض ایم جے اکبر نے دیڑھ سال کے عرصہ میں اقلیتی بہبود میں نمایاں کارکردگی کے ذریعہ اقلیتوں کا دل موہ لیا تھا۔ شادی مبارک، فیس ری ایمبرسمنٹ، اوورسیز اسکالر شپ، اقلیتی بہبود میں اسٹاف کی تعداد میں اضافہ، وقف بورڈ میں اصلاحات، وقف بورڈ کے زیر تعمیر کامپلکس کی 4.62کروڑ بلڈنگ فیس کی معافی، اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے کارروائیاں، عدالتوں میں جاری مقدمات کی موثر پیروی کیلئے ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس وامن راؤ کی قیادت میں لیگل سیل کا قیام، وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کیلئے رینٹ ریویو کمیٹی، دو ریٹائرڈ ججس کے ذریعہ وقف تنازعات کی یکسوئی کوشش، وقف بورڈ میں ڈسپلن کا نفاذ، بائیو میٹرک حاضری سسٹم کا آغاز، متعلقہ سیکشن انچارج سے روزانہ فائیلوں کی یکسوئی کی رپورٹ، عدالتوں میں زیر دوراں مقدمات کے بارے میں روزانہ رپورٹ کی طلبی، اوقافی جائیدادوں کی ترقی کے ذریعہ آمدنی میں اضافہ کیلئے 5جائیدادوں کی نشاندہی جیسے اقدامات ان کے کارناموں میں شامل ہیں۔ انہوں نے شادی مبارک اسکیم میں شفافیت پیدا کرنے کیلئے کئی ایک اہم قدم اٹھائے اور درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کیلئے دیگر اداروں کے تال میل سے کام کیا۔ ایک سال میں نشانہ سے زیادہ درخواستوں کی یکسوئی میں ایم جے اکبر کا اہم رول ہے۔ وہ وقفہ وقفہ سے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس اور ایکزیکیٹو ڈائرکٹرس، اقلیتی فینانس کارپوریشن کا اجلاس طلب کرتے ہوئے اسکیمات کا جائزہ لیتے رہے ہیں۔ حکومت میں اقلیتی عہدیداروں کی کمی ہے ایسے میں جس عہدیدار کو بھی ڈائرکٹر کی حیثیت سے مقرر کیا جائے گا انہیں اسکیمات سمجھنے اور محکمہ کی داخلی سیاست کو سمجھنے میں کافی وقت لگ جائے گا۔ اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتی اسکیمات اور اقلیتی بہبود کے حق میں فیصلہ کریں اور اس گروہ کا شکار نہ ہو جو بے قاعدگیوں کو جاری رکھنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT