Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / ڈائریکٹر اقلیتی بہبود سے پہلی قسط کی اجرائی یقینی بنانے کی خواہش

ڈائریکٹر اقلیتی بہبود سے پہلی قسط کی اجرائی یقینی بنانے کی خواہش

(  اورسیز اسکالرشپ )

ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی سے طلبہ اور سرپرستوںکی دفتر ’سیاست‘ پر نمائندگی
دفتر اقلیتی بہبود میں کوئی پرسان حال نہ ہونے کی شکایت
حیدرآباد ۔ 21 ۔ ڈسمبر (سیاست  نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر سے خواہش کی کہ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کی منظورہ درخواستوں کیلئے پہلی قسط کی اجرائی کو یقینی بنائیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر کی آج دفتر روزنامہ سیاست پر آمد کے موقع پر طلبہ اور ان کے سرپرستوں نے نمائندگی کی کہ اوورسیز اسکالرشپ کے منتخب طلبہ کو ابھی تک پہلی قسط جاری نہیں کی گئی ہے۔ سرپرستوں نے بتایا کہ عہدیداروں کی جانب سے پہلی قسط کے طور پر پانچ  لاکھ روپئے جاری کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے لیکن ابھی تک رقم اکاؤنٹ میں جمع نہیں کی گئی ۔ سرپرستوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود کے دفاتر میں انہیں کوئی تشفی بخش جواب نہیں مل رہا ہے ۔ حیدرآباد کے 137 طلبہ کو اسکیم کیلئے منتخب قرار دیا گیا اور عہدیدار 101 طلبہ کو پہلی قسط کی رقم جاری کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن ایک بھی طالب علم کو پانچ لاکھ روپئے حاصل نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے اقلیتی بہبود دفتر میں کوئی پرسان حال نہیں اور وہاں موجود افراد مسائل کی سماعت کیلئے تیار نہیں ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے فوری ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین ا کبر سے ربط قائم کیا اور اس بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ طلبہ کو محکمہ ٹریژری کی جانب سے اسکالرشپ کی رقم جاری نہیں کی گئی ہے۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے بتایا کہ 210 طلبہ کے منجملہ 110 طلبہ کو پہلی قسط کی اجرائی سے متعلق بلز جاری کردیئے گئے اور یہ محکمہ ٹریژری میں زیر التواء ہیں۔ ٹریژری کی جانب سے رقم جاری نہیں کی گئی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے ہدایت دی کہ پہلی قسط کی عاجلانہ اجرائی کو یقینی بنایا جائے کیونکہ طلبہ یونیورسٹیز میں داخلہ حاصل کرچکے ہیں اور رقم کی اجرائی میں تاخیر سے ان پر بوجھ میں اضافہ ہوگا۔ واضح رہے کہ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے تحت 513 درخواستوں میں سے 210 کا انتخاب کیا گیا۔ ان کے علاوہ مزید 40 امیدواروں کی درخواستیں زیر غور ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بجٹ کی کمی کا بہانہ کرتے ہوئے ٹریژری عہدیدار رقم جاری کرنے سے گریز  کررہے ہیں۔ اسکیم کے تحت پہلی قسط پانچ لاکھ روپئے ادا کی جانی ہے ۔ اس کے علاوہ ایک طرف کا فضائی کرایہ بھی ادا کیا جائے گا ۔ دوسرے سمسٹر میں دوسری قسط جاری ہوگی۔ گزشتہ تین ماہ سے رقم کی عدم اجرائی کے سبب طلبہ اور ان کے سرپرستوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT