Tuesday , December 12 2017
Home / جرائم و حادثات / ڈاکٹر جلیس انصاری ‘ دہشت گردی کے الزام سے بری

ڈاکٹر جلیس انصاری ‘ دہشت گردی کے الزام سے بری

جئے پور ٹاڈا عدالت کا فیصلہ کالعدم ۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ /5 مئی (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے بالآخر تنظیم اصلاح المسلمین کے بانی ڈاکٹر جلیس انصاری کو 23 سال کے طویل وقفہ کے بعد دہشت گردی کے الزام سے بری کردیا ۔ سپریم کورٹ نے جئے پور خصوصی ٹاڈا کورٹ کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے ڈاکٹر جلیس انصاری کو بری کردیا ۔ واضح رہے کہ ٹاڈا عدالت نے /28 فبروری 2004 ء کو ڈاکٹر جلیس انصاری کو 15 سال اور انکے ساتھی رحمت کو 20 سال قید کی سزاء سنائی تھی ۔ جلیس انصاری نے 2014 ء میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی ۔ 1993 میں ملک کے کئی مقامات بشمول حیدرآباد ، راجستھان ، نئی دہلی میں سلسلہ وار بم دھماکوں کے الزام میں مختلف ریاستوں کی پولیس نے جلیس انصاری کو گرفتار کیا تھا اور انہیں اجمیر کی مقامی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔ سپریم کورٹ لح دو رکنی بنچ کے جسٹس ارجن کمار سیکری اور جسٹس راجیش کمار اگروال نے جئے پور کی ٹاڈا عدالت کے فیصلے کو مسترد کرکے انہیں بری کردیا ۔ 55 سالہ جلیس انصاری بی یو ایم ایس ڈاکٹر ہیں اور ان پر الزام ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد انہوں نے تنظیم اصلاح المسلمین قائم کی اور اس تنظیم کے ارکان نے ملک بھر میں سلسلہ وار دھماکے کئے ۔ حیدرآباد کے میٹرو پولیٹین سیشن جج نے گزشتہ سال جلیس انصاری کو شہر کے علاقہ ہمایوں نگر ، عابڈس اور نامپلی کے علاوہ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں بم دھماکے کیس سے بری کردیا تھا ۔ جلیس انصاری کے خلاف جملہ 22 مقدمات درج تھے جن میں دو سپریم کورٹ میں زیرالتوا تھے اور آج ایک کیس میں برأت پر انکے افراد خاندان نے مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ اجمیر کے مقدمہ میں بھی ان کی برأت کی امید ہے ۔

TOPPOPULARRECENT