Saturday , December 16 2017
Home / ہندوستان / ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف تحقیقات کے بعد کارروائی

ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف تحقیقات کے بعد کارروائی

بیرون ملک سے واپسی پر گرفتاری ممکن‘ آئی آر ایف دفتر کے باہر پولیس متعین
نئی دہلی، 8جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ متنازعہ مبلغ اسلام ڈاکٹر ذاکر نائک کے مبینہ اشتعال انگیز تقاریر کی جانچ کے بعد ان کی سرگرمیوں کے پیش نظر کوئی کارروائی کی جائے گی۔ذاکرنائک کی بابت جو ہندستان میں بظاہر سلفی نظریات عام کرتے ہیں اور اپنی تقریروں کی وجہ سے ان دنوں کافی تنازعات میں گھر گئے ہیں، مرکزی وزیر داخلہ کے اس سے پہلے بیان میں کہا گیا تھا کہ ذاکر کی تقاریر پر حکومت کی نظر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ دہشت گردی چاہے جس روپ میں بھی ہو اس کی مذمت ہونی چاہئے ۔ان بیانات سے ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ نائک کی جلد گرفتار ی بھی ہو سکتی ہے ۔ مہاراشٹر کی حکومت پہلے ہی نائک کی تقریروں کی تحقیقات کا حکم دے چکی ہے ۔اطلاعات و نشریات کے وزیر وینکیا نائیڈو اور اور وزیر داخلہ کرن رجیجو بھی نائک کے خلاف کارروائی کی بات کہہ چکے ہیں۔ ذاکر نائک ابھی ملک سے باہر ہیں اس کے وطن لوٹنے پر گرفتاری ہو سکتی ہے ۔اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے سربراہ ذاکر نائک نے اپنے پرانے بیانات پر صفائی دینے کے بدلے نیا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر لگائے گئے سارے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے اس بابت سعودیہ سے کچھ ویڈیو کلپس بھی بھیجی ہیں۔

جس میں وہ ہندستانی میڈیا کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں وہ یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ان پر لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔دریں اثناء متنازعہ مبلغ اسلام ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ادارہ ( فاؤنڈیشن ) کے دفتر کے باہر پولیس کی بھاری جمعیت متعین کردی گئی جن کی نفرت انگیز تقریر سے متاثر ہوکر 5 بنگلہ دیشی نوجوانوں نے حال ہی میں ڈھاکہ میں دہشت گردانہ حملے کئے تھے۔ ممبئی پولیس کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ جنوبی ممبئی کے علاقہ ڈونگری میں واقع ذاکر نائیک کے اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن آفس کے باہر سیکوریٹی عملہ کو متعین کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی یا ریاستی حکومتوں کی جانب سے کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہیں لیکن احتیاطی اقدامات کے طور پر ممبئی پولیس نے از خود سیکوریٹی انتظام کیا ہے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آسکے۔ واضح رہے کہ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے کل دہلی میں یہ بیان دیا تھا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تقاریر ہمارے لئے تشویش کا باعث بن گئی ہیں جس پر مرکزی ایجنسیاں کام کررہی ہیں۔ تاہم انہوں نے ’’سرکاری کارروائی‘‘ کے بارے میں تبصرہ سے انکار کردیا تھا۔ بنگلہ دیش کے اخبار’ ڈیلی اسٹار‘ نے یہ اطلاع دی کہ ایک عسکریت پسند روہن امتیاز جو کہ عوامی لیگ لیڈر کے فرزند ہیں گذشتہ سال فیس بک پر ذاکر نائیک کی تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے شدت پسندی کی تشہیر کررہا تھا۔ جنہوں نے اپنے پیس ٹی وی کے ذریعہ تمام مسلمانوں کو عسکریت پسند بن جانے کی اپیل کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT