Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈاکٹر ذاکر نائیک کے مسئلہ پر مسلم طبقہ کی رائے منقسم

ڈاکٹر ذاکر نائیک کے مسئلہ پر مسلم طبقہ کی رائے منقسم

فردِ واحد کیلئے تمام مسلمانوں کو موضوع بحث بنانا مناسب نہیں: عابد رسول خاں

حیدرآباد۔/13جولائی، ( پی ٹی آئی) صدر نشین ریاستی اقلیتی کمیشن تلنگانہ و آندھرا پردیش عابد رسول خاں نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے مسئلہ پر مسلمانوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ ذاکر نائیک کی تقاریر آیا درست یا غلط ہیں اس موضوع پر مسلمانوں کی رائے منقسم پائی جاتی ہے۔ اس مسئلہ کو موضوع بحث بنانا مناسب نہیں اس سے قانونی اور دیگر مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذاکر نائیک کے بارے میں مسلمانوں میں دو رائے ہے ان میں سے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ ذاکر نائیک کی تقاریر درست ہیں اور مابقی کا اصرار ہے کہ وہ غلط ہیں۔ متنازعہ مبلغ اسلام ذاکر نائیک کو ان دنوں ہمہ رُخی تحقیقات کا سامنا ہے جن کی تقاریر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ڈھاکہ میں ہوئے حالیہ قتل عام میں ملوث بعض انتہا پسندوں کو مبینہ طور پر اُکسایا تھا۔ ہندوستان میں ان  پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے جبکہ بنگلہ دیش نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پیس ٹی وی کی نشریات پر پابندی عائد کی ہے اور چینل کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی تقاریر کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ شیوسینا نے ذاکر نائیک کو ہندوستان پہنچنے پر گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا اور ان کے ٹی وی نیٹ ورک کو برخواست کرنے پر زور دیا۔ عابد رسول خاں نے کہا کہ اس مسئلہ پر اتنی بحث کیوں کی جارہی ہے۔ فردِ واحد کیلئے پورے طبقہ کو موضوع بحث کیوں بنایا جارہاہے یہ نامناسب بات ہے اس سے معاشرہ میں مزید نفاق پیدا ہوگا اور لاء اینڈ آرڈر کے مسائل بھی ہوں گے جیسا کہ عراق اور ایران ملکوں میں دیکھا جارہا ہے۔

ہر جگہ مسلمانوں کے اندر پھوٹ پائی جاتی ہے، ہم اس مسئلہ کو یہیں ختم کردینا چاہتے ہیں۔ حکومت ہند کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بحث کو ختم کردے۔ مرکزی حکومت کو اپنی ایجنسیوں کے ذریعہ جنگی بنیادوں پر ذاکر نائیک کی تقاریر کا جائزہ لینا چاہیئے۔ اگر انہوں نے قومی مفادات کے خلاف کچھ کہا ہے تو قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے قانون اور لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا کیا ہے تو اس کا بھی نوٹ لیا جائے۔ اگر انہوں نے ملک یا کسی اور کے خلاف ہتھیار اٹھانے کیلئے نوجوانوں کو اُکسایا ہے تو اس پر بھی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ اگر انہوں نے قانون کے خلاف کچھ نہیں کہا ہے کہ تو ان کا تعاقب کرنا درست نہیں ہے۔ اگر ذاکر نائیک نفرت پر مبنی تقاریر کررہے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔ اگر وہ امن کا پرچار کررہے ہیں اور کوئی دوسرا نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرنا چاہتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیئے مبلغ اسلام کے خلاف نہیں۔ عابد رسول خاں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مذہبی قائدین چاہے وہ ہندوہوں ، مسلمان ہوں یا عیسائی وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں اور ان کے اپنے ماننے والے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی افراد ایسے ہوتے ہیں جن کے اپنے پیروکار ہوتے ہیں اسی طرح ذاکر نائیک کے بھی پیروکار ہیں، آر ایس ایس کے بھی پیروکار ہوتے ہیں اور بجرنگ دل کے بھی پیروکار ہیں کیا یہ سب غلط ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ آر ایس ایس اور بجرنگ دل سے وابستہ افراد کے خلاف کئی مقدمات ہیں اور مختلف جرائم میں عیسائی طبقہ کے لوگ بھی ملوث ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پورا نظام ہی خراب ہے۔ ہمیں صرف اس خرابی کو دور کرنا ہے جس سے اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT