Wednesday , October 24 2018
Home / Top Stories / ڈاکٹر کفیل خان کے ضلع ہاسپٹل میں مختلف طبی معائنے ‘ سخت سکیوریٹی

ڈاکٹر کفیل خان کے ضلع ہاسپٹل میں مختلف طبی معائنے ‘ سخت سکیوریٹی

علاج کی سہولت فراہم نہ کرنے اہلیہ کے الزام کے دو دن بعد اقدام ۔ الزامات فرضی ہونے ڈاکٹر کا ادعا
گورکھپور ۔ (یو پی ) ۔ 19اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) بی آر ڈی میڈیکل کالج کیس کے ایک ملزم ڈاکٹر کفیل خان کو جس میں آکسیجن کی سربراہی میں خلل کے باعث گذشتہ اگسٹ میں 63 بچوں کی موت ہوگئی تھی‘ آج سخت سیکورٹی میں میڈیکل چیک اپ کیلئے ڈسٹرکٹ ہاسپٹل لایا گیا ۔ ڈاکٹر کفیل خان کو ان کی اہلیہ کی جانب سے عائد کئے گئے اس الزام کے دو دن بعد کہ ان کے جیل میں بند شوہر کو طبی خدمات فراہم کرنے سے انکار کیا جارہا ہے ‘ ہاسپٹل لایا گیا ۔ ڈسٹرکٹ ہاسپٹل کے کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر کے کے شاہی نے ان کا بلڈ پریشر چیک کیا اور دوسرے معائنے کئے اور انہیں مکمل لیپڈپروفائیل و امراض قلب کے جوکھم کا پتہ چلایا جانے ٹسٹ کروانے کا مشورہ دیا گیا ۔پولیس نے انہیں میڈیا سے کوئی بات کئے بغیر لے جانے کی کوشش کی لیکن کارڈیالوجی ڈپارٹمنٹ سے پولیس کی گاڑی تک کے راستہ میں انہوں نے وہاں موجود میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ انہیں ماخوذ کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’ یہ مکمل طور پر انتظامی ناکامی ہے اور مجھے ماخوذ کیا گیا ہے ‘ جب اعلیٰ سطح کے بجٹ جاری نہ کیا گیا تو ( آکسیجن سیلنڈرس کیلئے ) رقمی ادائیگی کہاں سے کی جاسکتی تھی ۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا جیل انتظامیہ انہیں ادویات فراہم کررہا ہے ‘ انہوں نے اثبات میں جواب دیا ۔

انہوں نے کہا کہ ’’ ہاں وہ لوگ دوائیں دے رہے ہیں ‘‘ لیکن پولیس انہیں گاڑی میں بٹھا دینے سے قبل وہ اس سوال کا جواب نہیں دے پائے کہ آخر انہیں اس کیس میں ضمانت کیوں حاصل نہیں ہوئی جبکہ آکسیجن سپلائر فرم ‘ پشپا سیلس کے ڈائرکٹر منیش بھنڈاری کو راحت ملی ہے ۔ ڈاکٹر کفیل کے معائنے گذشتہ ہفتہ ہی کئے جانے تھے لیکن خاطر خواہ سیکورٹی نہ ہونے کی وجہ اس میں تاخیر ہوئی ‘ جب رابطہ کیا گیا تو ڈسٹرکٹ جیل سپرنٹنڈ۔ٹ رام دھانی نے کہا کہ ڈاکٹر کفیل گذشتہ 8ماہ سے ڈسٹرکٹ جیل میں ہیں اور وہ بے چینی اور اضطراب محسوس کررہے تھے اور 12اپریل کو ان میں ہالی بلڈ پریشر کی علامتیں ظاہر ہوئیں ۔ جب عہدیداروں نے ان کے معائنے کیلئے جیل کے کارڈیالوجسٹ کو طلب کیا تو اس ڈاکٹرنے ایف سی ایچ او ٹسٹ کروانے کا مشورہ دیا لیکن خاطر خواہ سیکورٹی نہ ہونے کی وجہ اس میں تاخیر ہوئی ۔ ان کی سیکورٹی کیلئے کل پولیس لائنس سے زیادہ پولیس فورس فراہم کی گئی لیکن ڈسٹرکٹ ہاسپٹل میں ڈاکٹرس کی ہڑتال کے باعث ان کے معائنے ملتوی کردیئے گئے اور ڈاکٹر کفیل کے ٹسٹس کیلئے آج ڈسٹرکٹ ہاسپٹل لے جایا گیا ۔ ڈاکٹر کفیل بی آر ڈی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل کیس کے نو ملزمین میں ایک ہیں جس میں اگست 2017ء میں 4دن میں 63 بچوں کی موت ہوگئی تھی جن میں شیرخوار بچے بھی شامل تھے ۔ یہ اموات آکسیجن سربراہ کرنے والی فرم کو کو بقایا جات کی عدم ادائیگی پر آکسیجن کی سربراہی میں خلل کے باعث ہوئی تھیں ‘ حکومت کے زیر انتظام اس میڈیکل کالج گورکھپور میں حکومت کی امدادی واحد بڑی سہولت موجود ہے جہاں قریبی مقامات جیسے مہاراج گنج ‘ دیوریا ‘ خوشی نگر ‘ سدھارتھ نگر ‘ سنت کتھیر نگر وغیرہ سے آنیو الے مریضوں کا بھی علاج کیا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر کفیل خان کی اہلیہ ڈاکٹر شبستان خان نے کل ان کے گھر پر ایک پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا تھا کہ جیل میں ان کے شوہر اور دیگر ڈاکٹرس کو طبی نگہداشت فراہم کرنے سے انکار کیا جارہا ہے ۔ تاہم ڈسٹرکٹ جیل حکام نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا ۔ ڈاکٹر شبستان خان نے پریس کانفرنس میں اس خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ جیل میں رکھے گئے ڈاکٹرس کو ہلاک کردیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر 29مارچ کو قلب پر حملہ سے متاثر ہوئے تھے لیکن ان کا مناسب علاج نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا بی آر ڈی میڈیکل کالج کے سابق پرنسپل ڈاکٹر راجیو مشرا جگر کے امراض اور ذیابیطس سے متاثر ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT