Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کا عنقریب آغاز، مسلمانوں کیلئے خصوصی کوٹہ

ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کا عنقریب آغاز، مسلمانوں کیلئے خصوصی کوٹہ

شہر میں650 ایکر اراضی کی نشاندہی، اندراماں اور راجیو سوہا گروہااستفادہ کنندوں کے بقایہ جات 3920 کروڑ روپئے معاف:چیف منسٹر
حیدرآباد۔/27ڈسمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست میں غریبوں اور کمزور طبقات کیلئے مکانات کی تعمیر کی اسکیم میں مسلمانوں کیلئے کچھ فیصد کوٹہ مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مسلمان امکنہ کی اسکیم میں کافی پسماندہ ہیں اس کے علاوہ مختلف شعبہ جات میں ان کی پسماندگی اور غربت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں لہذا حکومت غریبوں کیلئے تعمیر کئے جانے والے مکانات میں اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کیلئے کچھ فیصد کوٹہ الاٹ کرے گی۔ شہر کے ارکان اسمبلی کے ساتھ اجلاس میں فیصد کا تعین کیا جائے گا۔ کمزور طبقات کے مکانات کے سلسلہ میں تلنگانہ اسمبلی میں مختصر مدتی مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے شہر میں ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کا عنقریب آغاز کرنے کا اعلان کیا اور بتایا کہ شہر کے مختلف مقامات پر 650 ایکر اراضی کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور جلد ٹنڈرس طلب کئے جائیں گے۔ مکانات کی تعمیر کیلئے عوام سے ایک پیسہ بھی وصول نہیں کیا جائے گا اور تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ چیف منسٹر نے ریاست میں سابق حکومتوں کے دور میں چلائی گئی امکنہ اسکیمات اندراماں اور راجیو سواہا گروہا کے استفادہ کنندگان کے بقایا جات کی معافی کا بھی اعلان کیا۔ گذشتہ کئی برسوں سے مذکورہ دونوں اسکیمات کے استفادہ کنندگان کو 3920 کروڑ روپئے کے بقایا جات ہیں جن کی ادائیگی کیلئے ان پر دباؤ بنایا جارہا تھا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت چونکہ غریبوں کیلئے اپنے خرچ سے مکانات تعمیر کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے لہذا گذشتہ اسکیمات کے غریبوں کے 3920 کروڑ کے بقایا جات معاف کرنے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے سابقہ اسکیمات میں بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق کانگریس حکومت نے بے قاعدگیوں کی جانچ کی تھی جبکہ ٹی آر ایس نے برسراقتدار آنے کے بعد سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں شدت پیدا کی جائے گی اور خاطی چاہے وہ کسی پارٹی کے کیوں نہ ہوں انہیں بخشا نہیں جائے گا اور انہیں عوام میں بے نقاب کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے ڈبل بیڈ روم مکانات کی اسکیم کے آغاز میں تاخیر کا اعتراف کیا اور کہا کہ حکومت عوام کو مایوس نہیں کرے گی اور ہر مستحق شخص کو ریاست میں ڈبل بیڈ روم مکان فراہم کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مکانات کے استفادہ کنندگان کے الاٹمنٹ میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں رہے گی اور نہ ہی ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ کیلئے کوئی خصوصی کوٹہ رہے گا۔ ضلع کلکٹر کی نگرانی میں عہدیدار استفادہ کنندگان کا انتخاب کریں گے اور رکن اسمبلی کو صرف اسکیم کیلئے موضع کا انتخاب کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ استفادہ کنندگان کے انتخاب میں کسی بھی بے قاعدگی کیلئے عہدیدار ذمہ دار ہوں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے واضح کیا کہ مکانات کی تعمیر ضلع کلکٹر کی نگرانی میں خانگی کنٹراکٹرس کے ذریعہ ہوگی۔ ہاؤزنگ کارپوریشن جسے حکومت نے تحلیل کردیا ہے اس کے احیاء کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریشن کے 500 ملازمین کو تاحال دیگر محکمہ جات میں ضم کردیا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے واضح کیا کہ ڈبل بیڈ روم مکانات کیلئے ریاست میں تاخیر کی گئی۔ 9 لاکھ سے زائد درخواستوں میں زیادہ تر درخواستوں کو مسترد کرنے کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ حکومت نے درخواستوں کو مسترد نہیں کیا بلکہ یہ درخواستیں زیر غور ہیں۔ چیف منسٹر نے اپوزیشن کے ضمنی سوالات پر بتایا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں حکومت نے عوام سے ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کا جو وعدہ کیا تھا اس پر قائم ہے۔ حکومت کو اس بات کا احساس ہے کہ وہ وعدہ کی تکمیل کے بغیر دوبارہ انتخابات کا سامنا نہیں کرسکتی۔ انہوں نے بتایا کہ ٹنڈرس کی طلبی میں بعض دشواریاں پیش آرہی ہیں اور سرکاری مکانات کی اسکیم میں کم آمدنی کے اندیشہ کے تحت بڑے ادارے ٹنڈرس داخل کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ اس سلسلہ میں حکومت نے کئی کنسٹرکشن کمپنیوں سے بات چیت کی اور انہوں نے ڈبل بیڈروم اسکیم کو اختیار کرنے سے اتفاق کرلیا ہے بہت جلد ٹنڈرس کا عمل شروع ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اندراماں اور راجیو سواہا گروہا کے زیر تکمیل مکانات کی بھی حکومت کی جانب سے تعمیر کا کام مکمل کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ جنوری کے پہلے ہفتہ میں شہر کے ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کا اجلاس پرگتی بھون میں منعقد کیا جائے گا جس میں شہر میں ڈبل بیڈ روم مکانات کے مسئلہ کی یکسوئی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سابق امکنہ اسکیم کے سلسلہ میں سی بی سی آئی ڈی نے 18 اسمبلی حلقوں میں جو ابتدائی تحقیقات کی ہیں اس میں کئی سنگین بے قاعدگیاں پائی گئیں اور مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس میں ملوث پائے گئے۔ کے سی آر نے کہا کہ بے قاعدگیوں کیلئے جو بھی ذمہ دار ہوں گے انہیں نہ صرف بے نقاب کیا جائے گا بلکہ ان سے رقومات وصول کی جائیں گی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ملک کی کسی بھی ریاست میں مکانات کی تعمیر سے متعلق اس طرح کی منفرد اسکیم موجود نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں چیف منسٹر نے کہا کہ عوام کی ضرورتوں اور بڑھتے خاندانوں کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے اور یہ روایت آئندہ بھی ہر حکومت کو جاری رکھنی پڑے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر شہری ترقی وینکیا نائیڈو نے بھی امکنہ کی اسکیم میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT