Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈبل بیڈ روم کے 2.60 لاکھ مکانات کی تعمیر کو چیف منسٹر کی منظوری

ڈبل بیڈ روم کے 2.60 لاکھ مکانات کی تعمیر کو چیف منسٹر کی منظوری

غریبوں اور مستحق افراد کو علحدہ مکان فراہم کرنے کا عزم ، اسمبلی میں چندر شیکھر راؤ کا بیان
حیدرآباد۔/27ڈسمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اعلان کیا کہ حکومت نے ڈبل بیڈروم مکانات اسکیم کے تحت 2 لاکھ 60 ہزار مکانات کی تعمیر کو منظوری دی ہے اور کسی بھی صورت میں اس نشانہ کی تکمیل کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے کمزور طبقات کیلئے امکنہ اسکیم راجیو سوا گروہا اور راجیو گروہا کلپا پر اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مقررہ نشانہ سے زائد مکانات تعمیر کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈبل بیڈ روم مکانات کی اسکیم کا مقصد غریبوں کے عزت ووقار میں اضافہ کرنا ہے اور ہر مستحق شخص کو علحدہ مکان فراہم کیا جائے گا تاکہ  مستقبل میں وہ پہلی منزل تعمیر کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں  نے تمام مکانات کی تعمیر پلرس پر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ مختلف گوشوں سے انہیں فلیٹس سسٹم کی نمائندگیاں بھی موصول ہوئی ہیں تاہم اس میں کوئی غریب خاندان علحدہ مکان کا مالک نہیں بن سکتا۔ کے چندر شیکھر راؤ نے بتایا کہ ضلع کلکٹرس نے ڈبل بیڈروم مکانات کی کالونی کیلئے اراضیات کی نشاندہی کی ہے اور 2 لاکھ 60 ہزار مکانات کی تعمیر کیلئے ٹنڈرس طلب کرنے کا کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 14224 مکانات کیلئے ٹنڈرس کو قطعیت دے دی گئی اور 1217 مکانات تعمیر کئے گئے جو غریبوں کے حوالے کردیئے گئے۔ 9588 مکانات تعمیراتی مرحلہ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشن کاکتیہ، مشن بھگیرتا، آبپاشی پراجکٹس اور سڑکوں کی تعمیر جیسی اسکیمات کے سبب ڈبل بیڈروم مکانات کیلئے کنٹراکٹرس آگے نہیں آرہے ہیں کیونکہ کئی بڑے ادارے مذکورہ سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ دوسری وجہ ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر میں منافع کی کمی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت نے ڈبل بیڈ روم مکانات کیلئے ریت مفت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ 31 کمپنیوں سے یادداشت مفاہمت کی گئی جس کے تحت یہ سمنٹ کمپنیاں 230 روپئے کے حساب سے سمنٹ سربراہ کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اسکیم کو کرپشن اور بے قاعدگیوں سے پاک کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ استفادہ کنندگان کا انتخاب اور مکانات کی تعمیر کا مرحلہ یہ تمام امور میں مکمل شفافیت رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بے قاعدگیوں کی صورت میں عوامی رقومات کے ضائع ہونے کا خطرہ رہتا ہے لہذا اسکیم کیلئے کئی اصلاحات نافذ کی گئیں۔ سابق میں انچارج منسٹر اور ایم ایل اے کیلئے کوٹہ ہوا کرتا تھا لیکن حکومت نے اس سسٹم کو ختم کردیا ہے۔ اس طرح سیاسی مداخلت کو پوری طرح ختم کردیا گیا۔ ضلع نظم و نسق ضلع کلکٹرکی نگرانی میں استفادہ کنندگان کا انتخاب کرے گا۔ درخواستوں کی وصولی کے بعد ان کی جانچ کی جائے گی بعد میں گرام سبھا میں عوام سے مشاورت ہوگی اور عوام کی منظوری سے استفادہ کنندگان کا انتخاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مکانات کی تعمیر میں معیار کا بطور خاص خیال رکھا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں 2003 تک 17 لاکھ 34 ہزار 826 مکانات تعمیر کئے گئے جس پر 1805 کروڑ کا خرچ آیا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے ڈبل بیڈ روم اسکیم کیلئے 17660 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں ریاستی حکومت کے بجٹ میں 1433 کروڑ روپئے الاٹ کئے گئے تھے۔ مرکزی حکومت نے 333 کروڑ روپئے منظور کئے ہیں اس طرح مرکز اور ریاستی حکومتوں نے 1766 کروڑ روپئے فراہم کئے ہیں۔ ہڈکو نے گزشتہ سال اور جاریہ سال علی الترتیب 3334 کروڑ 76 لاکھ اور 12549 کروڑ کی فراہمی سے اتفاق کیا ہے۔ اس طرح مکانات کی تعمیر کیلئے حکومت کے پاس 17660 کروڑ 40 لاکھ روپئے موجود ہیں۔ سابقہ حکومت نے علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل تک 11000 کروڑ روپئے خرچ کئے تھے اور تلنگانہ حکومت نے صرف دو سال میں 17660 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2004 تا 2014 تک 24لاکھ 91 ہزار 870 مکانات تعمیر کئے گئے جس پر 9075 کروڑ کا خرچ آیا۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں جے این یو آر ایم کے تحت 40519 اور وامبے اسکیم کے تحت 6608 مکانات تعمیر کئے گئے۔ اس طرح تلنگانہ کی تشکیل تک ریاست میں 43 لاکھ 29 ہزار 124 مکانات غریبوں کیلئے تعمیر کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار کے اعتبار سے ریاست میں کوئی بھی غریب خاندان بے گھر نہیں رہنا چاہیئے لیکن یہ مکانات صرف سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں اور اس کے لئے خرچ کردہ رقم بدعنوان افراد کی جیب میں جاچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مقامات پر استفادہ کنندگان سے زیادہ کے بلز منظور کئے گئے۔ منتھنی اسمبلی حلقہ میں غریب خاندانوں سے 40 فیصد زائد مکانات کی منظوری عمل میں آئی اور یہ رقم کرپشن کا شکار ہوگئی۔ سیاستدانوں، عہدیداروں کی ملی بھگت سے یہ بے قاعدگیاں کی گئیں جس کی حکومت نے تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔ 2004 تا 2014 تک 225 افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کئے گئے جو اندراماں ہاؤزنگ اسکیم میں کرپشن سے متعلق ہیں۔ ان میں 122عہدیدار، 113 درمیانی افراد اور سیاستداں، ایک زیڈ پی ٹی سی، 3 ایم پی ٹی سی، 14 سرپنچ اور 3 سنگل ونڈو چیرمین شامل ہیں۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ ایک لاکھ 94 ہزار 519 غیر مستحق افراد کو مکانات الاٹ کئے گئے اور ان میں سے ایک لاکھ 4 ہزار غیر مستحق افراد کو 235کروڑ 90لاکھ روپئے ادا کئے۔ ہاوزنگ ڈپارٹمنٹ کے 512عہدیداروں کو خدمات سے برطرف کردیا گیا اور 140 ملازمین کو معطل کیا گیا۔ الزامات ثابت ہونے پر 122 افراد کو سزا دی گئی۔ 2.86 کروڑ روپئے ریکور کئے گئے۔ ٹی آر ایس برسراقتدار آنے کے بعد 26 جولائی کو سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا اعلان کیا گیا اور یہ تحقیقات ابھی جاری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سابق میں امکنہ اسکیم کیلئے استفادہ کنندگان سے بھی ان کا حصہ حاصل کیا جاتا تھا لیکن ڈبل بیڈ روم اسکیم کیلئے حکومت نے مکمل اپنے خرچ پر مکانات کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈبل بیڈ روم مکان560  مربع فیٹ پر تعمیر کیا جائے گا اور مواضعات میں ایک مکان کیلئے 5لاکھ 4 ہزار روپئے، ٹاؤنس میں 5 لاکھ 30ہزار روپئے اور گریٹر حیدرآباد حدود میں 60لاکھ روپئے الاٹ کئے گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT