Thursday , June 21 2018
Home / دنیا / ڈرون حملے : نام سی آئی اے کا اور کام امریکی فضائیہ نے دکھائے!

ڈرون حملے : نام سی آئی اے کا اور کام امریکی فضائیہ نے دکھائے!

لندن ، 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) نام امریکی سی آئی اے کا اور کام امریکی فضائیہ دکھائے۔ ڈرون حملے کرنے والے ایک سابق اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ ڈرون حملے امریکی فضائیہ کا خصوصی یونٹ کرتا ہے جبکہ سی آئی اے کا نام صرف معلومات مخفی رکھنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ویڈیو گیم کے انداز میں اسکرین پر ڈرون سے اصلی انسانوں کو نشانہ بنانے والو

لندن ، 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) نام امریکی سی آئی اے کا اور کام امریکی فضائیہ دکھائے۔ ڈرون حملے کرنے والے ایک سابق اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ ڈرون حملے امریکی فضائیہ کا خصوصی یونٹ کرتا ہے جبکہ سی آئی اے کا نام صرف معلومات مخفی رکھنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ویڈیو گیم کے انداز میں اسکرین پر ڈرون سے اصلی انسانوں کو نشانہ بنانے والوں کے بارے میں دنیا یہی جانتی ہے کہ یہ کھیل امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے کھیل رہا ہے۔ مگر حقیقت میں پوری مسلح فوج اس جنگ کا حصہ ہے۔ ڈرون پر آج ریلیز ہونے والی دستاویزی فلم کیلئے دوران انٹرویو سابق ڈرون آپریٹرز نے بتایا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حملوں کیلئے امریکی ایرفورس کا یونٹ سیون ٹینتھ ری کانسنس اسکواڈرن مخصوص ہے ، جس کا خفیہ مرکز لاس ویگاس کے قریب صحرا میں بنے کریچ ایرفورس بیس کے کونے میں واقع ہے۔

امریکی انتظامیہ کے ایک عہدہ دار نے گزشتہ سال بریفنگ میں کہا تھاکہ ڈرون پروگرام کی سی آئی اے سے امریکی فوج کو منتقلی زیر غور ہے۔ سابق ڈرون آپریٹر برینڈن برائنٹ کا کہنا ہے کہ اس جھوٹ نے اسے اصلی کرداروں کو سامنے لانے پر مجبور کیا۔ برینڈن کا کہنا ہے کہ سب سمجھتے ہیں کہ سی آئی اے کے پرائیوٹ کنٹراکٹرز ڈرون حملے کرتے ہیں جبکہ یہ پروگرام حقیقت میں امریکی فضائیہ چلارہی ہے۔ تاہم معلومات کو خفیہ رکھنے اور جوابدہی سے بچنے کیلئے اس پر سی آئی اے کا لیبل لگایا گیاہے۔ ایک اور ڈرون آپریٹر نے بتایا کہ ڈرون پروگرام میں شریک ایرفورس کے اہل کار انتہائی خفیہ ہوتے ہیں اور وہ دوسرے اہل کاروں سے ملنے سے گریز کرتے ہیں۔ امریکہ میں شہری حقوق کے ادارے کی رہنما حنا شمسی کا کہنا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ سی آئی اے روایتی اور غیرروایتی جنگ کے میدانوں میں قوانین کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتی لیکن اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا امریکی فوج بھی سی آئی اے کی ڈھال میں قوانین کو پامال کررہی ہے۔ اقوام متحدہ کے دو تفتیش کار پاکستان میں بعض کارروائیوں پر سی آئی اے کو ممکنہ جنگی جرائم کا ذمہ دار قرار دے چکے ہیں اور ڈرون پروگرام میں فضائیہ کی شمولیت کے انکشاف کے بعد امریکی ایرفورس کے اہلکاروں کو بھی قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT