Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈسٹرکٹ مائناریٹی ویلفیر آفیسرس کی حیثیت سے ڈپٹی کلکٹرس رتبہ کے عہدیدار ندارد

ڈسٹرکٹ مائناریٹی ویلفیر آفیسرس کی حیثیت سے ڈپٹی کلکٹرس رتبہ کے عہدیدار ندارد

ضلعی دفاتر میں کام کاج متاثر، دیگر محکمہ کے عارضی عہدیداروں سے کام کی انجام دہی

حیدرآباد۔ 21 ۔ نومبر (سیاست نیوز) حکومت اقلیتی بہبود کے بلند بانگ دعوے کرتی ہے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کی زبوں حالی کا یہ عالم ہے کہ حیدرآباد سمیت 7 اضلاع میں ڈپٹی کلکٹر رتبہ کے عہدیدار دستیاب نہیں ہیں۔ حکومت ایک طرف اسکیمات پر موثر عمل آوری کی خواہاں ہے لیکن اس نے طویل عرصہ سے محکمہ کو ڈپٹی کلکٹر رینک کے عہدیدار الاٹ نہیں کئے جس کے باعث حیدرآباد کے بشمول 7 اضلاع میں اسکیمات پر عمل آوری کا کام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حیرت تو اس بات کی ہے کہ اقلیتی بہبود نے کم رتبہ کے حامل عہدیداروں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کردیا جس کے وہ اہل نہیں ہیں۔ اگرچہ یہ محکمہ کی مجبوری ہے لیکن افسوس کہ حکومت اس جانب توجہ کرنے سے قاصر ہے۔ محکمہ مال میں ڈپٹی کلکٹر اور اس سے اعلیٰ رتبہ کے عہدیداروں کی کوئی کمی نہیں لیکن انہیں اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے کیلئے مامور کرنے میں حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ حیدرآباد اور 6 دیگر اضلاع میں اقلیتی بہبود کے عہدیدار موجود نہیں ہیں اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ملازمین کے ذریعہ یہ کام لیا جارہا ہے۔ قواعد کے مطابق ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کا رتبہ ڈپٹی کلکٹر رینک کا ہونا چاہئے اور طویل عرصہ سے 7 اضلاع میں ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس موجود نہیں ہیں۔ اضلاع میں اقلیتی فینانس کارپوریشن کے اگزیکیٹیو ڈائرکٹرس کو اس عہدہ کی زائد ذمہ داری دی گئی۔ اسی طرح حیدرآباد میں کارپوریشن کے جنرل مینجر کو انچارج ڈی ایم ڈبلیو مقرر کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے مذکورہ عہدیدار اور ملازمین گزیٹیڈ رتبہ کے حامل نہیں ہے ، ان کا سرکاری محکمہ میں رتبہ سینئر اسسٹنٹ کا بتایا جاتا ہے لیکن انہیں محکمہ اقلیتی بہبود نے اہم ذمہ داری سونپ دی۔ 7 اضلاع میں خدمات انجام دینے والے نان گزیٹیڈ عہدیداروں کے سبب کئی اہم امور کی تکمیل میں دشواریوں کا سامنا ہے، وہ کم رتبہ کے باعث راست طور پر ضلع کلکٹرس سے ربط قائم نہیں کرسکتے۔ حال ہی میں کلکٹر حیدرآباد نے نان کیڈر اور نان گزیٹیڈ عہدیدار کو حیدرآباد ڈی ایم ڈبلیو مقرر کرنے پر اعتراض کیا تھا۔ اس کے باوجود محکمہ نے عبوری انتظامات کے تحت اس سلسلہ کو برقرار رکھا۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈپٹی کلکٹر رینک کے عہدیداروں کی خدمات حاصل کرتے ہوئے حیدرآباد اور دیگر 6 اضلاع میں مامور کریں تاکہ اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنایا جاسکے۔ مستقل ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کی عدم موجودگی کے باعث مسائل کی یکسوئی کیلئے عوام کو بار بار دفاتر کے چکر کاٹنے پڑ رہے ہیں۔ حیدرآباد ڈی ایم ڈبلیو آفس میں عوام نے شکایت کی کہ اکثر و بیشتر وہاں عہدیدار دستیاب نہیں رہتے اور ان کے مسائل کی سماعت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ دارالحکومت حیدرآباد کے ضلعی آفس کی زبوں حالی کا یہ عالم ہے کہ مستقل طور پر ایک سپرنٹنڈنٹ اور ایک سینئر اسسٹنٹ کام کر رہے ہیں جبکہ دیگر عملہ کا تعلق کارپوریشن سے ہے، شہر میں جب کیڈر رتبہ کے عہدیداروں کی تعیناتی میں محکمہ اقلیتی بہبود ناکام رہے تو عوام اسکیمات کی موثر عمل آوری کی کیا امید کرسکیں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر جو وزیر مال بھی ہیں، انہیں اس جانب فوری توجہ کر نی چاہئے تاکہ ڈپٹی کلکٹر اور گزیٹیڈ رینک عہدیداروں کو اقلیتی بہبود کے ضلعی دفاتر پر تعینات کیا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT