Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس میں کوئی پرسان حال نہیں

ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس میں کوئی پرسان حال نہیں

اسکیمات پر عمل آوری میں متعلقہ عہدیدار غیر سنجیدہ ، سینکڑوں طلباء کو مایوسی
حیدرآباد۔/15ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت اقلیتوں کی بھلائی کیلئے مختلف اسکیمات کا آغاز کرچکی ہے لیکن اسکیمات پر عمل آوری میں متعلقہ عہدیدار سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ اس کی شکایت ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس حیدرآباد میں اپنے مسائل کی یکسوئی کیلئے موجود سینکڑوں طلباء اور غریب خاندانوں کے افراد نے کی۔ حج ہاوز کی چھٹویں منزل پر موجود ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس میں صبح سے شام تک مختلف اسکیمات کے بارے میں درخواستیں داخل کرنے، منظورہ درخواستوں کا موقف جاننے اور درخواست کے طریقہ کار اور قواعد کا پتہ چلانے کیلئے سینکڑوں افراد رجوع ہورہے ہیں لیکن دفتر میں کوئی پرسان حال نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس حیدرآباد ایک آزاد مملکت ہے جس پر کسی کا کوئی کنٹرول نہیں۔ آزاد مملکت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی عہدیدار عوام کیلئے دستیاب نہیں ہے اور صبح سے شام تک گھنٹوں قطار میں کھڑے افراد کو ان کا نمبر آنے پر صحیح جواب تک نہیں ملتا۔ حیدرآباد جو کہ ریاست کا دارالحکومت ہے وہاں کے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کا یہ حال ہے تو پھر اضلاع کی صورتحال کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کی بیشتر اسکیمات جیسے ’ شادی مبارک‘ اسکالر شپ، فیس بازادائیگی اور اوورسیز اسکالر شپ کے سلسلہ میں صبح 10بجے سے ہی طلباء اور غریب خاندانوں کی قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ شادی مبارک اسکیم کی درخواست گذار خواتین امدادی رقم کی اجرائی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے صبح سے ہی دفتر پہنچ جاتے ہیں لیکن انہیں تشفی بخش جواب تک نہیں دیا جاتا۔ ان کی درخواست کے موقف کے بارے میں بھی بتانے والا کوئی نہیں ہے۔ آج اسی طرح کے کئی غریب خاندانوں اور طلباء کی بڑی تعداد نے عہدیداروں کے رویہ پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ طلباء اور دیگر اسکیمات کے درخواست گذاروں نے شکایت کی کہ وہ کئی دن سے روزانہ صبح سے شام تک دفتر میں وقت گذارنے پر مجبور ہیں لیکن روزانہ انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دفتر میں عملے کی کمی کا بہانہ بناکر اعلیٰ عہدیدار اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ عوام  نے شکایت کی کہ دفتر میں اقلیتی بہبود کے ضلعی عہدیدار کبھی دکھائی نہیں دیتے جس کے باعث ماتحت عملے کی من مانی جاری ہے۔ اعلیٰ عہدیدار بھی اس دفتر سے ربط قائم کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ ماتحت عملے کے پاس فون نہیں اور اگر ہے تو وہ نمبر انہوں نے اعلیٰ عہدیداروں کے دفاتر میں نہیں دیا ہے جس کے نتیجہ میں حیدرآباد کا اقلیتی بہبود کا دفتر من مانی اور خود مختار مملکت کا منظر پیش کرتا ہے۔ آج کئی طلباء کو ماتحت عملے سے اُلجھتے ہوئے دیکھا گیا جس پر انہیں برا بھلا کہہ کر واپس کردیا گیا۔ طلباء اسکالر شپ اور فیس باز ادائیگی سے محروم ہیں اور کئی ماہ سے وہ اقلیتی بہبود کے دفتر پر باقاعدگی سے حاضر دے رہے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اسکیمات کے موقف کے بارے میں بتانے والا کوئی نہیں اور آن لائن سرویس سے درخواست کا موقف بتانے کے بجائے سرسری انداز میں جواب دے کر طلباء کو واپس کیا جارہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اعلیٰ عہدیدار بھی ماتحت عہدیداروں کے رویہ سے عاجز آچکے ہیں اور وہ کسی کارروائی کے موقف میں نہیں۔ اکثر و بیشتر عہدیدار اس لئے بھی جوابدہی سے آزاد سمجھتے ہیں کیونکہ وہ اعلیٰ عہدیداروں سے قریب ہیں اور ان کے بارے میں لاکھ شکایات کا اعلیٰ عہدیداروں پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ حالیہ عرصہ میں اس دفتر میں ایک بڑی شخصیت کے سفارش کردہ دو افراد کو عارضی ملازمت دی گئی جبکہ دیگر اقلیتی اداروں میں عارضی ملازمین کی خدمات کو برخواست کردیا گیا۔ اس طرح اقرباء پروری کے ذریعہ ماتحت عہدیدار اپنی غلطیوں کی باآسانی پردہ پوشی کرنے میں کامیاب ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد کے بشمول 7 اضلاع میں ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کی جائیدادیں کئی ماہ سے خالی ہیں لیکن حکومت نے ان جائیدادوں پر تقررات نہیں کئے اور کم رینک کے بعض عہدیداروں کو ذمہ داری دے کر کام چلاؤ انداز میں وقت گذاری کی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں حکومت کی اسکیمات پر عمل آوری کی رفتار انتہائی سُست ہے۔

TOPPOPULARRECENT