Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈسٹرکٹ کامن اگزامنیشن بورڈ کے امتحانات،مضامین پر اساتذہ اور امیدواروں میں اُلجھن

ڈسٹرکٹ کامن اگزامنیشن بورڈ کے امتحانات،مضامین پر اساتذہ اور امیدواروں میں اُلجھن

پیچیدہ شیڈول، محکمہ تعلیمات کی عدم وضاحت
حیدرآباد 4 مارچ (سیاست نیوز) ڈسٹرکٹ کامن اگزامنیشن بورڈ کی جانب سے منعقد کئے جانے والے سالانہ امتحانات کا آغاز 9 مارچ سے ہورہا ہے لیکن اساتذہ اور اسکول کے ذمہ داروں میں چھٹی تا نویں جماعت کے اِن امتحانات میں مضامین کے متعلق اُلجھن پائی جاتی ہے۔ ڈی سی ای بی امتحانات جوکہ ضلعی سطح پر منعقد کئے جاتے ہیں اور اِن کا انعقاد اول تا نویں جماعت کا یکساں ہوتا ہے لیکن گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی چھٹی تا نویں جماعت کے مضامین میں اُلٹ پھیر کے سبب اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلبہ میں بھی اُلجھن پائی جارہی ہے۔ 9 تا 16 مارچ منعقد ہونے والے امتحانات میں چھٹویں اور ساتویں جماعت کے لئے 9 مارچ کو زبان اول کا پرچہ رکھا گیا ہے جبکہ آٹھویں جماعت کے لئے حساب کا پرچہ مقرر ہے۔ نویں جماعت کے لئے حساب کے پرچہ اول و دوم کا انعقاد عمل میں آنے والا ہے۔ اسی طرح 10 مارچ کو زبان دوم کا پرچہ چھٹی اور ساتویں جماعت کے لئے ہوگا اور فزیکل سائنس، بیالوجی کا پرچہ اُسی دن آٹھویں اور نویں جماعت کے لئے منعقد ہوگا۔ 11 مارچ کو اول تا پانچویں جماعت کے لئے حساب کا پرچہ منعقد ہوگا جبکہ چھٹی اور ساتویں جماعت کے لئے زبان سوم یعنی انگریزی کا پرچہ ہوگا۔ آٹھویں اور نویں جماعت کے لئے سماجی علوم اور عربی کا امتحان منعقد کیا جائے گا۔ 14 مارچ کو چھٹی اور ساتویں جماعت کے لئے حساب کا پرچہ منعقد ہوگا اور آٹھویں جماعت کے لئے زبان اول کا پرچہ منعقد کیا جائے گا۔ نویں جماعت کے لئے زبان اول کا پرچہ اول و دوم منعقد ہوگا۔ 15 مارچ کو چھٹی اور ساتویں جماعت کے لئے سماجی علوم و عربی کا پرچہ منعقد ہوگا۔ جبکہ آٹھویں اور نویں جماعت کے لئے زبان دوم کا پرچہ منعقد کیا جائے گا۔ 16 مارچ کو چھٹی اور ساتویں جماعت کا سائنس کا امتحان رہے گا اور آٹھویں جماعت کا زبان سوم یعنی انگریزی کا امتحان ہوگا۔ نویں جماعت کے لئے انگریزی پرچہ اول و دوم منعقد کیا جائے گا۔ ایک ہی تاریخ میں علیحدہ جماعتوں کے لئے علیحدہ علیحدہ زبانوں یا مضامین کے امتحانات منعقد کئے جانے کے سبب اساتذہ اور طلبہ اُلجھن کا شکار ہیں اور محکمہ تعلیم کی جانب سے اِس بات کی وضاحت نہیں کی جارہی ہے کہ آخر کیونکر یہ اقدام کیا گیا ہے۔ جبکہ اِس اقدام سے طلبہ کو کوئی فائدہ حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے اور نہ ہی اِس عمل سے مسابقت پیدا ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ ضلع حیدرآباد میں تمام اساتذہ، مدرسین و صدر مدرسین کو جاری کردہ احکامات میں امتحانات کا شیڈول دے دیا گیا ہے لیکن اساتذہ خود اِس شیڈول کو یاد رکھنے سے قاصر نظر آرہے ہیں تو طلبہ کیسے امتحانی تیاری کو یقینی بناپائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT