Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / ڈمپل ’بھابھی‘ سے انتخابی مہم میں نیا رنگ، اکھلیش کو مدد ملی

ڈمپل ’بھابھی‘ سے انتخابی مہم میں نیا رنگ، اکھلیش کو مدد ملی

لکھنو ، 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) یو پی میں برسراقتدار سماجوادی پارٹی کے خاندانِ اول کی کم سخن اور نرم گفتار ’بہو‘ ڈمپل یادو نے آخرکار اپنے قدم جما لئے ہیں اور ریاست بھر کی انتخابی ریلیوں میں ہجوم کیلئے بڑی پُرکشش شخصیت بن کر اُبھر آئی ہیں۔ اناڑی لیڈر سے لے کر جس نے چند ماہ قبل پارلیمنٹ میں کوشل وکاس مشن کے بارے میں اپنا تحریری متن پڑھتے ہوئے خود کی بار بار اصلاح کی، افرادی قوت سے مناسب طور پر استفادے تک حلقہ قنوج کی نمائندہ 39 سالہ ایم پی نے طویل سفر طے کرلیا ہے۔ نئی شخصیت والی ڈمپل جو اسٹار مہم جو ہیں، انھوں نے سامعین و ناظرین بالخصوص نوجوانوں کو متوجہ رکھنا اور انھیں متاثر کرنا سیکھ لیا ہے۔ ’بہو‘ اور ’بھابھی‘ کا رول بخوبی نبھاتے ہوئے ڈمپل نے نوجوان منچلوں کو مناسب انداز میں ڈانٹ پلائی اور متنبہ بھی کیا کہ وہ اُن کے تعلق سے ’بھیا‘ (اکھلیش یادو) سے شکایت کردیں گی اور ساتھ ہی رائے دہندوں میں بڑی عمر والوں پر بھی توجہ دیتے ہوئے اپنے لئے ووٹوں کی شکل میں ’منہ دکھائیے‘ طلب کیں۔ جب پارٹی ورکرس الہ آباد میں تیز و تند ہوئے ، تب انھوں نے کہا، ’’میں بھیا (اکھلیش) سے کہوں گی کہ آپ نے مجھے بولنے نہیں دیا۔ میں شکایت کروں گا … بھیا کل یہاں آرہے ہیں۔‘‘ ایک اور الیکشن ریلی سے جونپور میں خطاب کرتے ہوئے ڈمپل نے معمر لوگوں اور نوجوانوں کے دل یکساں جیت لئے ، جب انھوں نے تقریر کی شروعات ’منہ دکھائیے‘ طلب کرتے ہوئے کی جو ایک رسم ہے جہاں ارکان خاندان دلہن کو تحفہ دیتے ہیں جب وہ اس کا چہرہ پہلی مرتبہ دیکھتے ہیں۔ انھوں نے ان الفاظ کے ساتھ لوگوں سے فوری ناطہ جوڑ لیا، ’’… میں پہلی بار پوروانچل آئی ہوں۔ مجھے منہ دکھائی ملے گی … پورا وشواس ہے‘‘۔ فیملی میں اختلافات کے تناظر میں جس نے چیف منسٹر اور صدر پارٹی اکھلیش یادو کو انتخابی مہم کی قیادت کے معاملے میں لگ بھگ تنہاکردیا تھا، انھیں اپنی شریک حیات سے معقول مدد ملی جو اپنے طور پر انتخابی مہم پر چل پڑیں اور آسانی سے یہ کام کیا۔ ملائم سنگھ یادو کی شرمیلی بہو نے بڑے اور طاقتور سیاسی حریفوں کو تک نشانہ بنانے سے احتراز نہیں کیا لیکن وقار اور تہذیب کا دامن ایسے وقت بھی نہیں چھوڑا جب انتخابی مہم نئی پستی کو چھورہی تھی۔ ’’میرے اَنگنے میں تمہارا کیا کام ہے؟‘‘ اُن کا یہ استفسار واضح طور پر وزیراعظم نریندر مودی کے متبنٰی بیٹے سے متعلق ریمارک کے پس منظر میں رہا۔ وہ سخت نظر آئیں جب بھدوہی میں ریمارک کیا: ’’میں فوجی کی بیٹی ہوں، یہ لوگ ہمارے سپاہی شہید ہونے کا کریڈٹ لے رہے ہیں … وہ آرمی کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں … پہلے کبھی اس طرح کی حکومت نہیں دیکھی۔‘‘ انھوں نے تب بھی اچھا جواب دیا جب کہا، ’’مودی حکومت جس نے اچھے دن کا وعدہ کیا تھا اس نے نوٹ بندی کا کارنامہ کیا ہے … آپ سب کو بینکوں سے خود اپنی رقم لینے کیلئے گھومتے رہنے پر مجبور کیا گیا … وہ آپ کی محنت کی کمائی ہے … آج تک کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی کہ کتنا کالا دھن برآمد ہوا ہے۔‘‘ زائد از دو درجن جلسوں سے خطاب میں ڈمپل کا مسلسل بڑھتے ہجوم سے رابطہ فی البدیہہ اور اپنائیت والا رہا اور زبردست ردعمل دیکھنے میں آیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT