Friday , February 23 2018
Home / دنیا / ڈنمارک کے اسکول میں مسلمان طلباء کی نماز پرامتناع

ڈنمارک کے اسکول میں مسلمان طلباء کی نماز پرامتناع

کوپن ہیگن ۔ 16 جون (سیاست ڈاٹ کام) ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں ایک مقامی اسکول کی انتظامیہ نے تدریسی اوقات میں مسلمان طلباء طالبات کی نماز کی ادائیگی پرپابندی عائد کردی ہے، جس پر مسلمان طلباء میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسکول انتظامیہ نے نہ صرف طلباء کے نماز ادا کرنے پرپابندی لگائی ہے بلکہ طالبات کے حجاب اوڑھنے کی بھی سختی سے ممانعت کردی ہے۔ کوپن ہیگن کے کسی اسکول میں مسلمان طلباء طالبات پرنماز کی ادائی اور حجاب پرپابندی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی ایک دوسرے ہائی اسکول نے مسلمان طلباء کو نماز اور حجاب سے روک دیا تھا۔ اسکول کی پرنسپل انگر مارگریٹ جنسن کا کہنا ہے کہ وقفے کے دوران مسلمان طلباء￿  اسکول کی راہ داریوں میں مصلے بچھا کر نماز پڑھنا شروع کردیتے ہیں جس سے دوسرے طلباء کی آمد ورفت میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے وقفے کے دوران اور تدریسی اوقات میں طلباء کو نماز کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اسکول انتظامیہ کے اقدام پر طلباء سخت احتجاج کیا ہے۔ اسکول کی ایک مسلمان طالبہ نے ’فیس بک‘ پر پوسٹ بیان میں بتایا کہ میری ایک کلاس فیلو نے مجھے بتایا کہ اسکول کی پرنسپل نے ہمیں نماز کی ادائیگی سے روک دیا ہے۔ آج کے بعد ہم نماز کی ادائیگی سے محروم ہوجائیں گے۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT